گھر، کوڑے دان کے نشان اور ۔۔ جانیے موبائل چارجر پر موجود ان نشانوں کے پیچھے چھپے چند راز، جو آپ بھی نہیں جانتے ہوں گے

img
 
جدید فونز نے انسان کو سہولتیں فراہم کی ہیں اور ان سہولتوں کے ساتھ ساتھ آج کل آنے والے موبائل چارجرز بھی بہترین سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن ان چارجر پر لکھے ہوئے منفرد سائن کے بارے میں کیا آپ جانتے ہیں؟ ہماری ویب ڈاٹ کام آج آپ کو انہی چارجر پر موجود منفرد سائنز سے متعلق معلومات فراہم کرے گی۔
 
اسکوائر:
یہ نشان آریجنل چارجرز پر اکثر پایا جاتا ہے۔ یہ نشان دراصل اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ کا موبائل فون کا چارجر مکمل طور پر محفوظ ہے، اس سے آپ کرنٹ لگنے کا خطرہ نہیں ہے۔ چارجر کے اندر موجود وائر اس طرح سے ترتیب دی گئی ہے کہ آپ کو کسی بھی قسم کا کرنٹ نہیں لگ سکے گا۔ عام طور چارجرز سے کرنٹ نہیں لگتا ہے مگر صارف کی حفاظت کے لیے چارجر کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔ لیکن لوکل چارجر میں اس قسم کا نشان موجود نہیں ہوتا ہے۔
 
وی کا نشان:
دراصل انگریزی ایلفابٹ وی کے نام والا یہ نشان انگریزی حرف نہیں ہے بلکہ رومن گنتی کا 5 ہے۔ اور یہ وی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے موبائل کی پاور سپالئی ایفیشنسی کتنی ہے۔دراصل یہ نشان ہر موبائل کے چارجر پر موجود ہوتا ہے جو کہ اس چارجر کی پاور سپلائی ایفیشنسی کو بتاتا ہے۔ اور اگر آپ کے موبائل کے چارجر پر وی کا نشان موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے چارجر کی ایفیشنسی کا لیول 5 ہے۔
 
img
 
گھر کا نشان:
گھر کا نشان یا ہوم سنبل چارجر پر موجود ہوتا ہے جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ چارجر صرف گھروں ہی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسے چارجرز کو آپ گھر سے باہر کہیں اور استعمال نہیں کر سکتے۔ کہیں اور استعمال سے آپ کا موبائل خراب بھی ہو سکتا ہے اور آپ کی جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔چونکہ چارجر کا وولٹیج اور کرنٹ ایک خاص لیول کا ہوتا ہے، ایسے میں اگر ہائی وولٹیج یا ہائی کرنٹ کے سوکٹ میں چارجر کو لگائیں گے تو بھاری نقصان اٹھانا ثابت ہو سکتا ہے۔
 
کچرے کے ڈبے والا نشان:
کچرے کے ڈبے والا نشان یا ڈسٹبن کا نشان ہر الیکڑانک پروڈکٹ پر موجود ہوتا ہے۔یہ نشان بتاتا ہے کہ جب کبھی الیکڑانک کے پروڈکٹ خراب ہو جائیں تو انہیں کوڑے دان میں ہر گز نہیں پھینکیں۔بلکہ ان قسم کی چیزوں کو خراب ہونے کی صورت میں کمپنی کو واپس دے دیں۔ اسی لیے یہ نشان لگایا جاتا ہے۔
Total Views: 3185
Search Mobiles

Reviews & Comments