میئر سکھر و ترجمان حکومتِ سندھ بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے ہیڈکوارٹر منیلا میں منعقدہ 'کلائمیٹ ایڈاپٹیشن انویسٹمنٹ پلاننگ فورم' (CAIP) میں بطور مہمان مقرر شرکت کی اور سندھ میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، شہری ترقی اور بلدیاتی خدمات کی بہتری کے لیے اہم اقدامات پر روشنی ڈالی۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے بتایا کہ حکومتِ سندھ اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے "سندھ سیکنڈری سٹیز امپروومنٹ اینڈ انویسٹمنٹ پروگرام" شروع کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کے پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز سکھر، حیدرآباد، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد میں تقریباً 1 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 278 ارب پاکستانی روپے) کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی، سیوریج و گندے پانی کا بہتر نظام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور سائنسی بنیادوں پر جدید لینڈ فل سائٹس کی تعمیر ہے۔ منصوبے میں موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ انفراسٹرکچر، شجرکاری، اربن فارسٹری، جامع ماسٹر پلانز اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے میونسپل اداروں کو مالی طور پر خود کفیل بنانا شامل ہے۔ ADB کے نائب صدر ینگ منگ یانگ نے ان منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے سکھر کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی گرانٹ کی منظوری کی بھی خبر دی، جو دی راک فیلر فاؤنڈیشن، برطانوی حکومت اور ADB کے تعاون سے 'اربن ریزیلینس ٹرسٹ فنڈ' کے تحت منظور کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ رقم بلا معاوضہ گرانٹ ہے جس پر کوئی قرض یا سروس چارجز لاگو نہیں ہوں گے، اور بین الاقوامی کنسلٹنٹس نومبر 2026 سے سکھر میں 'کلائمیٹ اینڈ ہیٹ ایڈاپٹیشن انویسٹمنٹ پلاننگ' پر کام شروع کریں گے۔
فورم کے دوران بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے نیپال کے مدھیش صوبے کے وزیراعلیٰ کرشنا پرساد یادو سے ملاقات کی اور نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے عالمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں حکومتِ سندھ ان منصوبوں کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں پائیدار بہتری لانے اور شہروں کو موسمیاتی آفات سے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔