اقبال کے شاہین نے تو بلند پروازیں بہت کیں، مگر راولپنڈی کے علاقے ڈھوک جلال الدین کے عمران چوہان نے فیس بک چیٹ کے ذریعے ایسی اڑان بھری کہ سات سمندر پار سے محبت کا پرندہ پاکستان پہنچا اور بات نکاح تک جا پہنچی۔
50 سالہ سنار عمران چوہان کی انوکھی محبت کی کہانی تقریباً نو ماہ قبل اس وقت شروع ہوئی جب فیس بک پر ان کی امریکی خاتون علنور سے چیٹنگ شروع ہوئی۔ ابتدا میں یہ صرف آن لائن گفتگو تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کے درمیان رابطہ بڑھتا گیا اور نو ماہ کی مسلسل چیٹنگ نے اس تعلق کو باقاعدہ رشتے میں تبدیل کردیا۔
عمران چوہان زیادہ پڑھے لکھے نہیں، تاہم ان کے مطابق ان کی اس محبت کی داستان میں مصنوعی ذہانت یعنی چیٹ جی پی ٹی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ عمران امریکی خاتون سے گفتگو کے لیے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے پیغامات کا ترجمہ اور مفہوم سمجھتے اور پھر اپنے جذبات الفاظ کی شکل میں امریکی خاتون تک پہنچاتے رہے۔
محبت کی یہ آن لائن کلاس نو ماہ جاری رہی اور بالآخر دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ امریکی خاتون علنور نے پاکستان آنے سے پہلے اسلام قبول کیا اور اپنا نام عائشہ رکھ لیا۔
عائشہ کے امریکا میں پانچ بچے ہیں جبکہ عمران چوہان پاکستان میں چھ بچوں کے والد ہیں۔ دونوں کے مطابق باہمی رضامندی اور افہام و تفہیم سے گھریلو معاملات طے کرلیے گئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عمران کی پاکستانی اہلیہ اور امریکی اہلیہ عائشہ اس وقت ایک ہی گھر میں رہ رہی ہیں۔
یوں ایک ہی گھر میں دو بیویاں اور ایک شوہر موجود ہیں، جبکہ عمران چوہان بظاہر اس غیر معمولی صورت حال سے خاصے خوش نظر آتے ہیں۔
عمران کا کہنا ہے کہ بچپن سے ہی انہیں غیر ملکی لڑکی سے شادی کرنے کا شوق تھا جو بالآخر 50 سال کی عمر میں پورا ہوگیا۔ ان کے مطابق ان کے اہل خانہ، محلے دار اور عزیز و اقارب بھی اس شادی پر خوش ہیں۔
امریکی اہلیہ عائشہ کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستانی کھانے زیادہ پسند نہیں آئے، تاہم بریانی سمیت ایک دو پاکستانی ڈشز انہیں پسند ہیں۔ وہ زیادہ مرچ مصالحے والی غذا نہیں کھاتیں اور چائنیز کھانا انہیں زیادہ پسند ہے۔
دونوں نے مستقبل کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ عمران چوہان کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ عائشہ کے ساتھ امریکا منتقل ہوجائیں، تاہم اگر یہ ممکن نہ ہوسکا تو عائشہ چند ماہ بعد مستقل طور پر پاکستان منتقل ہونے پر غور کررہی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا میں رہنے والے ان کے پانچ بچے وہیں رہیں گے جبکہ وہ پاکستان میں عمران کے ساتھ باقی زندگی گزاریں گی۔
بچوں کے حوالے سے عمران چوہان سے جب سوال کیا گیا تو انہوں نے ازراہِ مذاق کہا کہ انہیں مزید بچے بھی چاہئیں اور وہ عائشہ سے مزید اولاد کے خواہش مند ہیں۔ تاہم عائشہ نے اس خواہش سے اتفاق نہیں کیا اور واضح کیا کہ ان کے اور عمران کے مجموعی طور پر گیارہ بچے ہیں، جو ان کے لیے کافی ہیں۔
عمران پیشے کے اعتبار سے سنار ہیں اور اپنی نئی زندگی کے حوالے سے خاصے پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور انہیں غیر ملکی اہلیہ مل گئی۔
فیس بک کی ایک معمولی سی چیٹ سے شروع ہونے والی یہ کہانی نو ماہ میں محبت، مذہب کی تبدیلی، نکاح اور دو مختلف ملکوں کے خاندانوں کو ایک گھر کی چھت تلے لے آئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ راولپنڈی کے عمران چوہان کی یہ منفرد محبت کی داستان مستقبل میں امریکا کا رخ کرتی ہے یا عائشہ واقعی پاکستان کو ہی اپنا مستقل گھر بنا لیتی ہیں۔