زندگی کبھی انسان کو ایسے امتحان سے دوچار کر دیتی ہے کہ بظاہر تمام راستے بند دکھائی دینے لگتے ہیں، لیکن حوصلہ، خود اعتمادی اور محنت کا جذبہ زندہ ہو تو مشکلات بھی کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ اسلام آباد کے علاقے چھٹہ بختاور میں اپنی محنت سے روزی کمانے والے محمد بشیر کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، جنہوں نے ایک المناک حادثے میں اپنی ٹانگ کھونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنی معذوری کو مجبوری بنانے کے بجائے خودداری اور خود انحصاری کی مثال قائم کر دی۔
محمد بشیر کا تعلق کراچی سے ہے، جہاں وہ ایک بڑے کاروبار سے وابستہ تھے۔ ان کے مطابق ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران ڈاکوؤں کے ہاتھوں پیش آنے والے حادثے میں ان کی ٹانگ ضائع ہو گئی، جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد انہوں نے کراچی میں اپنا کاروبار سمیٹا اور اسلام آباد منتقل ہو گئے، جہاں غوری ٹاؤن میں گھر خرید کر نئی زندگی کا آغاز کیا۔
اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد محمد بشیر روزگار کی تلاش میں مختلف علاقوں میں جاتے رہے۔ اسی دوران قومی شناختی کارڈ پر اپنا پتہ تبدیل کرانے کے لیے وہ بلیو ایریا پہنچے، جہاں ایک فوٹو کاپی کی دکان پر انہیں ایک دلچسپ تجربہ ہوا۔ ان کے مطابق فوٹو کاپی کے دو روپے کے بجائے دس روپے وصول کیے گئے۔ بظاہر یہ معمولی سا واقعہ تھا، لیکن محمد بشیر کے ذہن میں ایک نئے کاروبار کا خیال پیدا ہو گیا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ خود فوٹو کاپی، کلر پرنٹنگ اور دستاویزات کی تیاری کا کام شروع کریں تو نہ صرف اپنا روزگار کما سکتے ہیں بلکہ شہریوں کو بھی مناسب سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔
موٹر سائیکل کو بنایا چلتا پھرتا روزگار
ایک ٹانگ سے محروم ہونے کے باعث محمد بشیر کے لیے عام انداز میں کاروبار کرنا آسان نہیں تھا، لیکن انہوں نے اپنی جسمانی معذوری کو راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ انہوں نے ایک موٹر سائیکل حاصل کی، اسے اپنی ضرورت کے مطابق تبدیل کرکے تین پہیوں والی سواری بنایا اور اس پر ایک خصوصی اسٹینڈ تیار کیا۔ اس اسٹینڈ پر پرنٹر، لیپ ٹاپ اور دیگر ضروری آلات نصب کیے، یوں ان کی موبائل فوٹو کاپی اور پرنٹنگ شاپ وجود میں آ گئی۔
محمد بشیر گزشتہ پانچ برس سے اسلام آباد کے علاقے چھٹہ بختاور میں، گریز کے سامنے واقع ایک کمپاؤنڈ کے قریب یہ کام کر رہے ہیں۔ وہ روزانہ صبح ساڑھے چھ بجے گھر سے نکلتے ہیں اور تقریباً ساڑھے سات بجے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے پاس آنے والے شہریوں کو فوٹو کاپی، کلر پرنٹنگ اور دستاویزات سے متعلق دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ روزانہ تین سے چار ہزار روپے تک کما لیتے ہیں اور باعزت طریقے سے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کام شروع کرنے کے بعد انہیں لوگوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی اور ان کے پاس گاہکوں کی آمد اتنی اچھی رہتی ہے کہ اکثر دنوں میں ان کا مقررہ ہدف صبح گیارہ سے بارہ بجے کے درمیان ہی پورا ہو جاتا ہے۔
بچوں کا مستقبل، محنت کی کمائی سے روشن
محمد بشیر کے مطابق ان کے چار بچے ہیں، جن میں سے تین تعلیم حاصل کرنے کے بعد برسر روزگار ہو چکے ہیں، دو بچوں کی شادیاں بھی ہو چکی ہیں، جبکہ ایک بچہ اب بھی کالج میں زیر تعلیم ہے۔ وہ اپنی محنت کی کمائی کو اپنے خاندان کے بہتر مستقبل اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ کسی ادارے میں ملازمت اختیار کرتے تو شاید انہیں ماہانہ بیس سے تیس ہزار روپے تنخواہ ملتی اور پورا دن ایک ہی جگہ بیٹھ کر کام کرنا پڑتا۔ ایک ٹانگ سے محرومی کے باعث ان کے لیے مسلسل کئی گھنٹے ایک ہی جگہ بیٹھنا مشکل ہوتا، اس لیے انہوں نے ایسا روزگار منتخب کیا جس میں وہ اپنی جسمانی کیفیت کے مطابق کام کر سکیں، اپنی ضروریات پوری کر سکیں اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے بل بوتے پر زندگی گزار سکیں۔
پچاس ہزار روپے کی پیشکش ٹھکرا کر خودداری کی مثال قائم کردی
محمد بشیر کی کہانی کا سب سے متاثر کن پہلو ان کی خودداری ہے۔ ان کے مطابق کئی لوگ ان کی حالت دیکھ کر مالی مدد کی پیشکش کرتے رہے۔ ایک شخص نے انہیں پچاس ہزار روپے دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہ رقم اپنے پاس رکھ لیں، لیکن محمد بشیر نے شکریے کے ساتھ وہ رقم واپس کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کی ہمدردی پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ہاتھوں سے محنت کرکے کمانا چاہتے ہیں۔ انہیں خدشہ تھا کہ بلا معاوضہ مالی امداد قبول کرنے سے کہیں وہ اس کے عادی نہ ہو جائیں، اس لیے انہوں نے اسی وقت رقم واپس کر دی۔
محمد بشیر کے بقول، اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنے کام پر مزید توجہ دی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے روزگار میں برکت عطا فرمائی۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی کسی سے رقم حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی محنت سے کمانا اور اپنے اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
صحت مند افراد کے لیے محمد بشیر کا پیغام
محمد بشیر معاشرے میں موجود ان افراد کو بھی پیغام دینا چاہتے ہیں جو جسمانی طور پر صحت مند ہونے کے باوجود بھیک مانگنے کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محنت انسان کو عزت، خود اعتمادی اور اپنے خاندان کے سامنے سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق کوئی نہ کوئی کام ضرور کرے، کیونکہ محنت سے حاصل ہونے والی آمدن میں اطمینان بھی ہے اور اپنے پیاروں کے لیے کچھ کرنے کی خوشی بھی۔ ان کے نزدیک ہاتھ سے محنت کرکے روزی کمانا ایسی خوبی ہے جس کی قدر معاشرہ بھی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی محنت کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
محمد بشیر کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ کامیابی کے لیے جسمانی طور پر مکمل صحت مند ہونا ہی ضروری نہیں، بلکہ حوصلہ، مستقل مزاجی، خود اعتمادی اور محنت کا جذبہ بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی محرومی کو اپنی پہچان بننے نہیں دیا، بلکہ اسی حالت میں اپنے لیے روزگار پیدا کیا اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی جدوجہد جاری رکھی۔
ان کی کہانی ہر اس شخص کے لیے امید کا پیغام ہے جو مشکلات کے سامنے ہمت ہارنے لگتا ہے۔ محمد بشیر کا عملی کردار یہی سبق دیتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر انسان محنت کرنے کا فیصلہ کر لے تو وہ اپنے لیے نئی راہیں تلاش کر سکتا ہے۔
محمد بشیر کا پیغام مختصر مگر بامعنی ہے: محنت میں عظمت ہے۔ اپنے ہاتھوں سے کمائیے، اپنے خاندان کا سہارا بنیے اور زندگی میں خودداری کو ہمیشہ مقدم رکھیے۔