حج و عمرہ زائرین کے لیے ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقات اہم مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں، ایف آئی اے نے وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید مصطفیٰ کمال کی گرفتاری کی باضابطہ اجازت طلب کرلی ہے، تاہم تاحال سید مصطفیٰ کمال کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق حج، عمرہ اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے پاکستانیوں کو فراہم کی جانے والی میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسین کی خریداری کے لیے کیے گئے معاہدے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ تحقیقات میں ویکسین کی خریداری میں مبینہ طور پر 2 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ روپے کی اضافی لاگت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 10 ارب 44 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کے پانچ سالہ معاہدے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ایف آئی اے اس امر کا جائزہ لے رہی ہے کہ ویکسین کی خریداری کس طریقہ کار کے تحت کی گئی، ٹینڈر کے عمل میں قواعد و ضوابط پر کس حد تک عملدرآمد ہوا اور متعلقہ حکام نے قیمتوں کے تعین اور منظوری کے مراحل میں کیا کردار ادا کیا۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق ویکسین کی قیمتوں، مارکیٹ سروے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کی مقررہ قیمتوں، ٹینڈر کے عمل اور نجی کمپنی کو معاہدہ دینے کے فیصلے سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے اس معاملے میں بارڈر ہیلتھ سروسز کے متعدد افسران کو بھی گرفتار کرکے تفتیش کی ہے، جبکہ اب تحقیقات کا دائرہ وزارتِ صحت کے اعلیٰ حکام اور وفاقی وزیر صحت کے کردار تک پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے سید مصطفیٰ کمال کی گرفتاری کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت طلب کی ہے، تاہم گرفتاری کی اجازت ملنے یا گرفتاری عمل میں آنے کی حتمی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب سید مصطفیٰ کمال کی جانب سے پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کیا جا چکا ہے کہ ویکسین کی خریداری کے معاملے میں بعض افسران نے وزارت کو اعتماد میں لیے بغیر اقدامات کیے اور وہ اپنے کردار کے حوالے سے مطمئن ہیں۔
حج و عمرہ ویکسین کی خریداری کا معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا تھا جب وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی کو خریداری کے طریقہ کار، ٹینڈر، قیمتوں، متعلقہ منظوریوں اور قواعد و ضوابط کی پابندی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
واضح رہے کہ سید مصطفیٰ کمال کے خلاف اس وقت ایف آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں اور ان پر عائد الزامات ابھی عدالت سے ثابت نہیں ہوئے۔
تاہم اس حوالے سے مصطفیٰ کمال اپنا مزید موقف دینا چاہیں تو ہماری ویب کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔