مریم نواز کے سینڈل ہی 2 لاکھ کے ہیں اور شہزادی نے بندے ہی صرف 800 کے پہنے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ دکھاوا ہے یا ضرورت؟

اس وقت ملک پاکستان کے بڑے سیاسی گھرانے مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں، ان پر کرپشن کے کئی کیسز چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ میڈیا یا عام عوام کے سامنے آتے ہیں تو ان کو جیسے مائیکرواسکوپ سے دیکھاجاتاہے، کہ کونسی حرکت یا چیز ان کی نظروں میں آجائے اور اس کی کوئی خبربن جائے۔

اب حال ہی میں کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں نواز شریف بذات خود تو شریک نہ ہوئے لیکن انٹرنیٹ کا سہارا لے کر انہوں نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس میں میڈیا اور لوگوں کی ساری توجہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی طرف تھی۔اسی کانفرنس کیلئے مریم نواز نے سبز رنگ کا جوڑا اور اسی کی میچنگ سلک سینڈل پہن رکھی تھی۔ ویسے تو مریم نواز اپنے مہنگے پہناووں اور اشیا کی وجہ سے مشہور ہیں،

تاہم وہ ایک مرتبہ پھر لوگوں کی نظروں میں آگئیں۔ انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے غیر ملکی برانڈ Manolo Blahnik کے سینڈلز پہنے، اس سینڈل کی قیمت ایک لاکھ64ہزار82روپے ہے۔ کچھ خواتین نے ان کے جوتوں پر ریسرچ کی اور انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس ملک میں غربت اپنے عروج پر ہے۔ کسی خاتون نے ٹوئٹ کیا کہ جتنے کی سینڈل انہوں نے پہنی ہے، اتنے میں 10گھرانوں کا ماہانہ خرچہ پورا ہوسکتا ہے۔

کئی ممالک میں اہم عہدوں پر فائز لوگوں سادگی کا ایک نمونہ ہوتے ہیں، جیسا کہ شہزادی کیٹ مڈلٹن جو کہ اپنے ملبوسات کو بارہا پہنتی ہیں، وہ پاکستان سے بندے لے کر گئیں جو مقامی طور پر تیار کئے گئے تھے اور اس کی قیمت 800روپے سے بھی کم تھی۔یہ ہرے رنگ کے بندے انہوں نے پہلے 2اکتوبر 2019کو آغا خان سینٹر کے دورے کے موقع پر پہنے، اس کے بعد انہوں نے 15اکتوبر 2019کو پاکستان کے دورے میں دوبارہ انہیں پہنا، پھر اس کے بعد ان سستے بندوں کو انہوں نے 15جنوری 2020میں بریڈفورڈ میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران تیسری مرتبہ پہنا۔ ان سستے بندوں کو ایک امیر ترقی یافتہ ملک کی شہزادی پہن سکتی ہے تو ہمارے یہاں کے سیاستدان اس طرح کا طرز عمل اختیار کیوں نہیں کرسکتے؟ مریم نواز ہمیشہ ہی بیرون ملک کی کمپنیوں کے تیار کردہ مہنگے کپڑے، جوتے اور بیگز استعمال کرنے کے حوالے سے جانی جاتی ہیں، کیا کبھی انہوں نے سوچا ہے کہ وہ اس ملک سے تعلق رکھتی ہیں، جہاں ایک غریب انسان کی ماہانہ تنخواہ 13ہزار یا اس سے بھی کم ہوتی ہے۔ کیا اس طرح کے اجلاس ان کیلئے فیشن شوز ہوتے ہیں، جہاں وہ نمودونمائش کیلئے آتی ہیں۔ان کے طرزعمل سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ یہ ضرورت نہیں، ان کیلئے دکھاوا ہے، تاکہ وہ اسی مہنگے شوق کے حوالے سے جانی جائیں۔ہونا تویہی چاہئے کہ وہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی اشیاخریدیں اور پہنیں، ساتھ ہی وہ نئی آنے والی خواتین سیاستدانوں کو سادگی کا سبق دیں۔

یہ وہ وقت ہے کہ جب ملکی سیاستدانوں کو سادگی اختیار کرنے کی طرف توجہ دینی ہوگی، کیونکہ مہنگے شوق رکھ کر وہ دلوں میں اترنے کا وہ ہنر سیکھ نہیں پائیں گے جوکہ لیڈی ڈیانا اپنے طرزعمل سے شہزادی کیٹ مڈلٹن کو سکھا گئی ہیں۔ فیشن کم پیسوں میں بھی کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کیلئے ہمارے سیاستدانوں کو کیٹ مڈلٹن جیسی شہزادی سے بھی سبق سیکھنا ہوگا۔

YOU MAY ALSO LIKE :