کورونا وائرس کو شکست دینے والی وہ خواتین حکمران جنھوں نے اپنے ساتھ ملک کو بھی سنبھالا

کورونا وائرس نے جہاں ہر چھوٹے بڑے ہر فرد کو آن گھیرا وہیں ایسی خواتین کو بھی نشانہ بنایا جو اپنے گھروں کے ساتھ ملکوں کی بھی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ مگر ہم یہاں ایسی لیڈرران خواتین کی بات کر رہے ہیں جو ملکوں کی سربراہ ہیں کوئی صدر ہے تو کوئی وزیرِاعظم مگر انھوں نے اس مشکل

وقت میں بھی اپنے لوگوں کا خیال رکھنے کی ہر طرح سے کوشش کی اور انھیں اکیلا نہ چھوڑا۔

اپ بھی جانیئے کہ وہ کونسی با ہمت خواتین ہیں جنھوں نے ایسے مثبت اقدامات اٹھاتے ہوئے حالات کا ڈٹ کر سامنا اور پیچھے نہ ہٹیں۔

• تائیوان کی خاتون صدر سائی انگ وین:

تائیوان میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے صدر سائی انگ وین نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے سفری پابندیوں سے لے کر سخت ترین پابندیوں پر کنٹرول کیا ملک بھر میں این 95 ماسک کی بھرپور فراہمی کی گئی لوگوں کو مجموعوں میں جمع ہونے سے روکا گیا، موبائل پر اگہی مہم چلائی گئی قرنطینہ نہ ہونے والوں پر بھاری جرمانہ کیا گیا، سیلف ہیلتھ مینیجمنٹ کے لیئے بھرپور کام کیا گیا اور جلد ہی اس پر قابو پانے میں تائیوان کامیاب بھی

رہا۔

• جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل

جرمنی میں وبا پر قابو تو نہ پایا جاسکا مگر کسی حد تک انجیلا مرکل نے وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایسے قواعد متعارف کروائے جس میں ابتدائی طور پر مفت ٹیسٹنگ مراکز کا قیام، اینٹی باڈی ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ بین کیا گیا، اسکولوں ہر پابندیاں، معمر افراد میں وبا کو روکنے کی مؤثر حکمت عملی اور ملک میں ہسپتال کی صلاحیت کا استعمال شامل ہے۔ تاہم انجیلا مرکل ہسپتالوں میں انفیکشن کی سطح کو قابو میں رکھنے میں کامیاب ہوئیں اور اس

وقت بھی وہ جارہانہ طریقے سے کورونا سے نمٹنے کے لیئے کام کررہی ہیں۔

• نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن:

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے صورتحال کی نگرانی کے حوالے سے اقدامات کیے جن میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ، سفری پابندیاں اور سرحدوں کی بندش،

مرحلہ وار 7 ہفتوں کا لاک ڈاؤن قابل ذکر ہیں اور یہی کورونا وائرس کے خلاف جسینڈا آرڈرن کی کامیابی کی اہم وجہ بھی ہیں۔

• ناروے کی وزیراعظم ایرنا سولبرگ:

نارویجین وزیراعظم ایرنا سولبرگ نے ابتدائی طور پر بہت زیادہ ٹیسٹنگ کا اہم اقدام اٹھایا تھا جس میں کورونا متاثر مریضوں کے رابطے میں موجود افراد

کی ٹیسنگ، وبا سے متاثرہ علاقوں جیسا کہ چین ،اٹلی سے آنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ اور انفیکشن سے متاثرہ افراد کی اسکریننگ شامل تھی۔ انھوں نے ڈے کیئر سینٹرز، اسکولز اور یونیورسٹیز، بڑے اور چھوٹے کاروبار، ریسٹورنٹس، فٹنس سینٹرز اور کنسرٹ وینیوز کی بندش کی، ایک میٹر تک کا سماجی فاصلہ، اِن ڈورز میں 2 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنے، بیرون ملک سے واپسی کی صورت میں 14 دن کا قرنطینہ، ٹیکسیز اور ڈرئیوانگ لائسنسز کے دفاتر کی بندش شامل تھی جبکہ وزیراعظم نے عوامی مقامات پر جمع ہونے والے افراد کی تعداد 5 اور انڈور جمع ہونے کی تعداد 6 تک محدود کردی تھی۔ اس کے علاوہ سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا اور اب ناروے میں کیسز کی تعداد مھدود ہوگئی۔

YOU MAY ALSO LIKE :