علمائے کرام میں اعزازیہ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ جب بھی کسی مشکل یا مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو سب کی نظریں علمائے کرام کی طرف اٹھتی ہیں میں دل سے علمائے کرام کا احترام کرتی ہوں تاہم افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں علماء کو وہ مقام نہیں دیا جا سکا جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ علمائے کرام معاشرے میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے واضح ہدایت دی تھی کہ امام مسجد بڑے لوگ ہیں اور ان کی عزت و توقیر ہونی چاہیے اسی سوچ کے تحت امام مساجد کے لیے ماہانہ اعزازیہ 25 ہزار روپے سے آغاز کیا گیا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ فروری کے آخر سے بینک آف پنجاب کے کارڈ کے ذریعے امام مساجد کو ماہانہ 25 ہزار روپے منتقل کیے جائیں گے۔ اب تک تقریباً 70 ہزار امام مساجد کے بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں اور اعزازیہ کارڈ کے ذریعے براہ راست رقم ان کے اکاؤنٹس میں پہنچائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ علمائے کرام، عوام اور حکمرانوں کے درمیان مضبوط تعلق ہونا ناگزیر ہے۔ کچھ عناصر نے اعزازیہ کے اقدام کو منفی رنگ دینے کی کوشش کی حالانکہ علمائے کرام کی مشاورت سے حکومتی معاملات میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ علمائے کرام اور حکومت کے درمیان رابطے میں کسی قسم کا خلل نہیں آنا چاہیے کیونکہ اگر یہ رشتہ کمزور ہو جائے تو معاشرے میں خرابی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مذہبی منافرت کو روکنا علمائے کرام کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مواقع پر مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرنا پڑے۔ کچھ لوگوں نے احتجاج کے نام پر ریاست کو یرغمال بنایا اور فتنہ پھیلانے والوں نے عوام کی املاک کو نقصان پہنچایا، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ حکومت علماء کے احترام، فلاح اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔