سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ملک کے تجارتی ماحول کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اسٹاک ایکسچینج میں کمپنیوں کی لسٹنگ کے عمل کو مزید آسان بناتے ہوئے پبلک آفرنگ ریگولیشنز 2017 میں اہم ترامیم کردی ہیں۔
ان ترامیم کے تحت چھوٹے کاروبار کی حامل کمپنیوں کے لیے انیشیل پبلک آفرنگ (آئی پی او) کی شرائط میں مزید نرمی کردی گئی ہے، جس کے بعد اب شراکت داری (پارٹنرشپ) پر مبنی کاروبار اور لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس (ایل ایل پیز) اپنے سابقہ منافع بخش ریکارڈ کی بنیاد پر آئی پی او کے اہل قرار پائیں گے۔ اس نئی سہولت کے تحت کاروبار کمپنی بننے سے پہلے کی مالی کارکردگی کو بھی آئی پی او کی اہلیت کے لیے استعمال کرسکیں گے، جس سے مستحکم کاروباروں کو اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
دوسری جانب سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے آڈٹ اور لاک اِن کی بنیادی شرائط برقرار رکھی گئی ہیں، جس کے تحت اسپانسرز کے حصص لسٹنگ کے بعد دو سال تک لاک اِن رہیں گے۔