باوثوق ذرائع کی رپورٹس میں سامنے آنے والی عوامی لابنگ دستاویزات کے مطابق بھارت اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایس ایچ ڈبلیو گروپ نامی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی ہیں۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام کو محض ایک سفارتی یا عوامی رابطہ مہم کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ یہ ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد بعض گروہوں کو بین الاقوامی سطح پر تنہائی سے بچانا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق اقوام متحدہ مبینہ طور پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ذیلی ونگ مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس فہرست میں شامل کیے جانے کی صورت میں ان گروہوں کو القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے برابر درجہ دیا جاسکتا ہے۔
ان دعوؤں کے مطابق اس ممکنہ پیش رفت کو روکنے کے لیے یورپ میں دو مراحل پر مشتمل مہم ترتیب دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 2 اپریل کو برطانیہ میں حربیار مری نے مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے مقامی سربراہان سے ملاقات کی، جس میں آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
بعد ازاں 25 مئی کو فرانس میں ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر نسیم بلوچ کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں ایک لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے کے معاملات کو حتمی شکل دی گئی۔
دعوے کے مطابق ایس ایچ ڈبلیو گروپ کے ساتھ معاہدہ اب فعال ہو چکا ہے اور اسے جنوبی ایشیا سے متعلق مختلف تحریکوں کے حوالے سے "اسٹریٹجک آؤٹ ریچ" کے عنوان کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔ الزام لگایا گیا ہے کہ اس کا مقصد بی ایل اے کو عالمی دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہونے سے بچانا اور ساتھ ہی یورپی یونین میں پاکستان کی جی ایس پی پلس تجارتی حیثیت کے خلاف مہم چلانا ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی اور متعلقہ فریقین کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔