وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے الیکشن سے پہلے آزاد کشمیر کی اسمبلی میں مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے کو انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات 27 جولائی کو شیڈولڈ ہیں، اور ایسے وقت میں عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پاکستان سے منتخب ہونے والی 12 نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ بلیک میلنگ تصور ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اس مؤقف کو الیکشن کے دوران عوام کی عدالت میں رکھیں کیونکہ یہی اصل جمہوری سوچ ہوگی۔
خواجہ آصف نے حلقوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ شہر اور تحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک نشست ہے، جبکہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی 2 نشستیں ہیں اور باقی حلقے ملک کے دیگر حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جہاں کشمیری مہاجرین کی بڑی تعداد بالخصوص جموں سے تعلق رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر 1947ء میں 2 لاکھ سے زائد مہاجرین جانوں کی قربانیاں دے کر سیالکوٹ میں آباد ہوئے تھے، اس لیے ان مہاجرین کو ان کے بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے تاکید کی کہ کسی بھی رائے کو تسلیم کرانے کے لیے دباؤ کے بجائے جمہوری راستہ اپنایا جانا چاہیے۔