خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے اور دہشت گردوں کے حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 21 افراد شہید اور 78 زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران پرانی پولیس لائنز کے قریب واقع مسجد کے باہر ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں مسجد کا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا ایک دیوار گر گئی جبکہ مسجد کے باہر گڑھا بھی پڑ گیا۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی جس کے بعد زوردار دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی کی گئی۔ فائرنگ کے دوران اسپیشل برانچ کی عمارت پر ایک اور خودکش دھماکا بھی ہوا۔
پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد 7 مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا۔
پولیس حکام کے مطابق اب تک خودکش بمبار اور اسنائپر سمیت 6 دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں جبکہ دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن آخری مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال طاہر علی شاہ کے مطابق اسپتال میں 21 لاشیں اور 78 سے زائد زخمی لائے گئے ہیں، جبکہ زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
پولیس نے سیکیورٹی کے پیش نظر کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے جبکہ پولیس لائنز کے اطراف مزید نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ شدید زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کی بھی ہدایت کی۔