’نئی زمینیں تلاش کرنے میں جا رہا ہوں‘

16 Apr, 2018 ڈی ڈبلیو اردو
ناسا کی ٹرانزٹنگ ایکسپو پلینٹ سروے ٹی ای ایس ایس نامی یہ سیٹلائٹ  پیر کے روز فلوریڈا کے کیپ کانیورل اڈے سے روانہ کی جا رہی ہے۔ اس سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجنے کے لیے مقامی وقت چھ بج کر بتیس منٹ یعنی عالمی وقت کے مطابق رات دس بج کر بتیس منٹ طے کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق اسی فیصد امکانات ہیں کہ یہ مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے لیے موسم سازگار ہو گا۔ اتنی اچھی تصاویر جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئیں امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ان تصاویر میں پلوٹو کی سطح کو انتہائی قربت سے دیکھا گیا ہے۔ پہاڑی اور برفیلے علاقوں سے مزین اس چھوٹا سے سیارے کی تصاویر پلوٹو کی ایک غیرمعمولی شکل دکھا رہی ہیں۔ انتہائی اچھی تصویریں نیو ہورائزن پلوٹو کے قریب سے گزرا، تو اس پر نصب دوربین ’لوری‘ نے ہر تین سیکنڈ کے وقفے سے اس بونے سیارے کی تصاویر کھینچیں۔ اس دوربین کے کیمرے کی شٹر اسپیڈ کا پورا فائدہ اٹھایا گیا، اور پلوٹو کی سطح کا باریکی سے مطالعہ کیا گیا۔ ایک بڑا فرق اس تصویر میں پلوٹو کا موسم گرما کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ خلائی جہاز ’نیو ہورائزن‘ کی نگاہ سے پلوٹو کی یہ تصاویر اس بونے سیارے کی اب تک کی تمام تصاویر سے بہت بہتر ہیں۔ دسترس میں پلوٹو کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک وقت ايسا بھی تھا، جب یہ خلائی جہاز اس بونے سیارے سے صرف 350 کلومیٹر کی دوری پر تھا۔ اس تصویر میں پلوٹو کا سب سے بڑا چاند چارون بھی دکھائی دے رہا ہے۔ ایک سیارہ جو اب سیارہ نہیں سن 2006ء میں نیو ہورائزن کی روانگی کے چھ ماہ بعد بین الاقوامی فلکیاتی یونین (IAU) نے پلوٹو کی بابت ایک اہم فیصلہ کیا۔ اس کا مدار سیاروں کی طرح گول نہیں، اس لیے اسے سیاروں کی کیٹیگری سے نکال کر ’بونے سیاروں‘ کی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا۔ پلوٹو جس جگہ پر ہے، وہاں اس طرح کے کئی آبجیکٹس دیکھے جا چکے ہیں۔ حجم کا تقابل اس تصویر میں سورج، عطارہ، زہرہ، زمین اور مریخ دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد نظام شمسی کے بڑے سیارے مشتری، زحل ، یورینس اور نیپچون ہیں۔ ان کے آگے یہ چھوٹا سا نکتہ پلوٹو ہے، جس کی قطر صرف دو ہزار تین سو ستر کلومیٹر ہے۔ پلوٹو کے تمام چاند گول نہیں نیوہورائزن نے اس بونے سیارے کے چاندوں کو بھی دیکھا۔ اس کے تمام چاند گول نہیں۔ ڈیٹا کے مطابق پلوٹو کا ایک چاند سٹیکس آٹھ سے اٹھائیس کلومیٹر قطر کا ہے۔ اس خلائی جہاز سے چارون، نِکس اور ہائیڈرا کی تصاویر بھی حاصل ہوئیں۔ چاند کا چاند بھی پلوٹو کے ایک چاند نِکس کے بارے میں اس تحقیقاتی مشن سے قبل زیادہ معلومات دستیاب نہ تھیں۔ نیو ہورائزن سے یہ معلوم ہوا کہ یہ چاند پلوٹو کے گرد گول مدار میں گردش نہیں کرتا، بلکہ پلوٹو کے سب سے بڑے چاند چارون کی تجاذبی کشش کی وجہ سے ایک انوکھا سا مدار بناتا ہے، یعنی نِکس پلوٹو کے چاند کا چاند بھی ہے۔ نیو ہورائزن پر سات اہم آلات نیوہورائزن پر تین آپٹیکل آلات تھے، جن کا کام پلوٹو کے مختلف مقامات کی تصاویر ریکارڈ کرنا تھا، جب کہ دو پلازما اسپیٹرو میٹر تھے، جو اس بونے سیارے پر سولر وِنڈز (شمسی شعاعیں) کے ذرات کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ گرد اور ریڈیو میٹر بھی نصب تھے۔ آپٹیکل دوربین ٹیکنیشنز نے طویل فاصلے سے تصاویر ’لوری‘ نامی دوربین نصب کی تھی۔ اسی سے ہمیں پلوٹو کی انتہائی عمدہ تصاویر حاصل ہوئی ہیں۔ ڈیجیٹل کیمرے سے سیارے پر موجود تابکاری کو طول موج سے ماپا گیا۔ اس خلائی جہاز پر ساڑھے آٹھ کلوگرام سے زائد وزن کا یہ اعلیٰ دیگر آلات کے مقابلے میں بھاری ترین تھا۔ 2006 سے سفر نیو ہورائزن نے 19 جنوری 2006 کو پلوٹو کے لیے اپنا سفر شروع کیا۔ کیپ کانیورل سے اٹلس فائیو راکٹ کے ذریعے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے اس خلائی جہاز نے زمین اور سورج کے تجاذب سے نکلنے کے لیے 16.26 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کیا۔ کسی خلائی جہاز کی اب تک کی یہ تیز ترین رفتار تھی۔ سورج سے دور بہت دور اس خلائی جہاز کی منزل نظام شمسی کا آخری سرا تھا۔ اس کے راستے میں مشتری اور ایک دم دار ستارہ آيا اور نو سال، پانچ ماہ اور 24 دن تک مجموعی طور پر 2.3 ملین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اس بونے سیارے تک پہنچا۔ مصنف: فابیان شمٹ/ عاطف توقیر آٹھویں سیارے کی دریافت میں ناسا نے مصنوعی ذہانت استعمال کی ناسا نے زمین جیسے دس نئے سیارے دریافت کر لیے دو ستاروں کے گرد گردش کرنے والے دو سیاروں کا کھوج اس سیٹلائٹ کے ذریعے نظام شمسی کے گردونواح میں واقع قریب دو لاکھ چمک دار ستاروں کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کا سراغ لگایا جائے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس سٹیلائٹ کے ذریعے ان سیاروں کی کھوج لگائی جائے گی، جو زمین کی طرح اپنے اپنے میزبان سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سیٹلائٹ ان سیاروں کا میزبان ستارے سے فاصلہ، حجم اور دیگر اہم معلومات بھی فراہم کرے گی، جس سے ان سیاروں پر زندگی کے امکانات سے متعلق آگہی ملے گی۔ بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے یہ سیٹلائٹ پہلے سے خلا میں موجود کیپلر دوربین کی طرز پر گردش کرتے ہوئے جب کوئی سیارہ اپنے میزبان ستارے اور سیٹلائٹ کے درمیان سے گزرے گا اور میزبان ستارے کی روشنی کے طولِ موج میں فرق پیدا ہو گا، تو اس سے اس سیارے کی موجودگی اور طول موج میں پڑنے والے فرق سے سیارے کے حجم اور ستارے سے فاصلے جیسی معلومات مل پائیں گی۔ سائنس دانوں کو توقع ہے کہ اس مشن کے ذریعے ہزاروں سیاروں کا سراغ لگایا جا سکے گا، جن میں سے قریب تین سو ایسے ہیں، جو زمین یا زمین کے حکم کے دوگنے کے برابر ہیں۔ اس سیٹلائٹ کے ذریعے ان سیاروں میں سے ان سیاروں کا انتخاب کیا جائے گا، جہاں زندگی ممکن ہو گی یا جو زندگی کے لیے موافق حالات کے حامل ہوں گے۔ مریخ پر کمند راکٹ کی کامیاب پرواز سرخ سیارے مریخ کے لیے پہلا بھارتی مشن منگل پانچ نومبر کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر دو بج کر اڑتیس منٹ پر خلاء میں روانہ کر دیا گیا۔ ’منگلیان‘ (ہندی زبان میں مریخ کا مسافر) نامی خلائی شٹل کو جنوبی ریاست آندھرا پردیش سے ایک راکٹ کی مدد سے زمین کے مدار میں پہنچایا گیا۔ اس مشن کی کامیابی کی صورت میں بھارت بر اعظم ایشیا کا پہلا ملک ہو گا، جو خلائی شٹل کے ساتھ مریخ پر پہنچے گا۔ مریخ پر کمند مریخ کے لیے پہلی بھارتی خلائی شٹل بھارتی خلائی مشن کے منصوبے کو خلائی تحقیق کی بھارتی تنظیم ISRO کے بنگلور میں و اقع ہیڈ کوارٹر میں پایہء تکمیل کو پہنچایا گیا۔ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے دو سال تک سولہ ہزار کارکن مصروفِ کار رہے۔ 1.35 ٹن وزنی ’منگلیان‘ کا سائز ایک چھوٹی کار جتنا ہے۔ پروگرام کے مطابق اس شٹل کو مریخ تک پہنچنے میں تین سو روز لگیں گے۔ مریخ پر کمند مریخ کے گرد ایک چکر ’منگلیان‘ محض ایک آربیٹر ہے یعنی اس کا کام محض اس سیارے کے گرد چکر لگانا اور پیمائشیں لینا ہے۔ اس شٹل کو مریخ کی سطح پر اُتارنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ISRO کا ہدف مریخ پر میتھین کا سراغ لگانا ہے۔ میتیھین کی موجودگی مریخ پر زندگی کی موجودگی کا پتہ دے گی کیونکہ ہماری زمین پر بھی انتہائی چھوٹے چھوٹے نامیاتی اجسام ہی گیس پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ مریخ پر کمند انتہائی جدید خلائی مرکز یہ تصویر بنگلور میں ISRO کے مرکز کی ہے۔ مریخ کے اردگرد چکر لگانے کا منصوبہ ایسا واحد بڑا منصوبہ نہیں ہے، جسے بھارت میں عملی شکل دی گئی ہے۔ پانچ سال پہلے ISRO نے چاند کی جانب بھی ایک شٹل روانہ کی تھی۔ یہ شٹل پہلی ہی کوشش میں چاند تک پہنچ گئی تھی اور اس خلائی تنظیم کے لیے شہرت کا باعث بنی تھی تاہم ’چندریان‘ کے ساتھ رابطہ اگست 2009ء میں منقطع ہو گیا تھا۔ مریخ پر کمند امید و بیم کی کیفیت یہ ٹیکنیشن خلائی اسٹیشن سری ہاری کوٹا میں شٹل کے ڈیٹا کو احتیاط سے جانچ رہا ہے۔ اب تک مریخ کے تمام مشنوں میں سے نصف سے زائد ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں، جن میں 2011ء کے چینی منصوبے کے ساتھ ساتھ 2003ء کا جاپانی منصوبہ بھی شامل ہیں۔ اب تک صرف امریکا، سابق سوویت یونین اور یورپ ہی مریخ کی جانب شٹلز روانہ کر سکے ہیں تاہم یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان ممالک کے پاس بجٹ بھی زیادہ تھا۔ مریخ پر کمند ایک نسبتاً سستا خلائی منصوبہ اس بھارتی منصوبے پر 4.5 ارب روپے لاگت آئی ہے اور اس طرح یہ ایک مسافر بردار بوئنگ طیارے کے مقابلے میں بھی سستا ہے۔ امریکا اپنی مریخ شٹل "Maven" اٹھارہ نومبر کو روانہ کرنے والا ہے اور 455 ملین ڈالر یعنی چھ گنا زیادہ رقم خرچ کرے گا۔ بھارتی مریخ مشن تنقید کی زد میں ہے کیونکہ ایک ایسے ملک میں، جہاں دنیا کے تمام غریبوں کی ایک تہائی تعداد بستی ہے، بہت سے شہری اتنے مہنگے خلائی منصوبوں کے خلاف ہیں۔ مریخ پر کمند ISRO کے سربراہ کا جواب اس منصوبے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں خلائی تحقیق کی بھارتی تنظیم کے سربراہ کے رادھا کرشنن کہتے ہیں کہ یہ تنظیم ایسے مصنوعی سیارے بنانے میں کامیاب ہوئی ہے، جن کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی بہتر ہوئی ہے۔ ISRO کو امید ہے کہ ’منگلیان‘ مشن کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل ہو گی اور آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوں گے۔ مریخ پر کمند دیو ہیکل راکٹ ’منگلیان‘ اپنی پرواز شروع کرنے کے 45 منٹ بعد ہی زمینی مدار میں پہنچ گیا تاہم 350 ٹن وزنی راکٹ کو زمینی مدار سے نکل کر مریخ کی جانب روانہ ہونے میں کچھ وقت لگ جائے گا۔ یہ راکٹ ایک مہینے تک زمین کے گرد چکر لگاتا رہے گا، تب جا کر اُس کی رفتار میں اتنی قوت آ سکے گی کہ وہ زمین کی کششِ ثقل کو توڑ کر مریخ کی جانب اپنا سفر شروع کر سکے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ سیٹلائٹ دو سال تک آسمان کو 26 سیکٹرز میں تقسیم کر کے ہر سیکٹر پر 27 دن تک ’گھورے‘ گا، جس دوران اس میں موجود انتہائی طاقت ور کیمرے تصاویر حاصل کریں گے۔ اس سیٹلائٹ سے موصول ہونے والی معلومات کو اگلے برس عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ ع ت / ع س
 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: