سابق رکن قومی اسمبلی محمود مولوی نے آٹے اور گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران گوداموں سے ایک لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم برآمد کی گئی ہے، جس کی مالیت 17 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کریک ڈاؤن کے بعد گندم کی قیمت کم ہو کر 106 روپے فی کلو تک آ گئی تھی، تاہم اوپن مارکیٹ میں قیمت دوبارہ بڑھ کر 117 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
محمود مولوی نے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور اندرونِ سندھ میں بھی کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گندم ذخیرہ کرنے والے بااثر عناصر کے نام منظرِ عام پر لائے جائیں اور ان ذخیرہ اندوزوں کے ذرائع آمدن کی بھی تحقیقات کی جائیں۔