بجلی کی خرید و فروخت میں بڑا فیصلہ، حکومت نے مسابقتی نظام کی جانب اہم قدم اٹھالیا

image

حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے ملکی تاریخ کی پہلی ویلنگ نیلامی کے لیے خواہشمند اداروں سے تجاویز طلب کرلی ہیں۔

پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی نیلامی کے لیے ریکوئسٹ فار پروپوزل (آر ایف پی) جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت بجلی کی خرید و فروخت دوطرفہ مسابقتی نظام (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی نیلامی کے لیے پیش کی جارہی ہے، جبکہ آئندہ پانچ سال کے دوران مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کا منصوبہ ہے۔ اس نظام کے تحت کاروباری ادارے اور صنعتی صارفین مسابقتی بنیادوں پر پاور پلانٹس سے براہ راست بجلی خرید سکیں گے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے نیلامی کے عمل کے آغاز پر وزیراعظم اور قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت ایک مرکزی نظام کے تحت بجلی خرید کر عوام تک پہنچاتی ہے، تاہم بجلی کی خریداری کی شرائط کے حوالے سے عوام کے ہمیشہ سوالات رہے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ حکومت آج سے بجلی کی خریداری کے عمل سے عملی طور پر باہر نکل رہی ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ حکومت کو بجلی فروخت کرے اور حکومت بھی براہ راست بجلی خریدنے کی پابند نہیں ہوگی۔ بجلی پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے فریق باہمی طور پر بجلی کی خرید و فروخت کرسکیں گے۔

وزیر توانائی کے مطابق بجلی کی خرید و فروخت کا نیا نظام شفافیت پر مبنی ہوگا اور ابتدائی مرحلے میں ایک میگاواٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی اور بڑے صارفین اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں ملک میں بجلی کی باقاعدہ منڈی تشکیل پائے گی اور اس نظام کے تحت عام صارف بھی اپنی ضرورت کے مطابق بجلی خریدنے کے قابل ہوگا۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی خرید کر زبردستی اپنے مقررہ نرخوں پر عوام کو فروخت نہیں کرسکے گی۔ سستی بجلی کی دستیابی سے ملکی صنعت کو عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی اور پاکستانی صنعتیں عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات زیادہ مؤثر انداز میں برآمد کرسکیں گی۔

وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کررہی ہے، بجلی کے شعبے میں مسابقتی نظام کا آغاز اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US