والدین بچوں کی پرورش اور انہیں ایک کامیاب انسان دیکھنے کی جستجو میں اپنے سپنے بھی بھول جاتے ہیں، اور کئی بار جب بچے والدین کا نام روشن کرتے ہیں تو سب کی توجہ بھی خوب سمیٹ لیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر مسلمان لڑکی ثناء علی کافی چرچہ میں ہیں، کیونکہ ایک ڈرائیور کی بیٹی اب سائنسدان بن چکی ہے، وہ بیٹی جو والد کو دیکھ کر پریشان ہو جایا کرتی تھی اور ان کی مدد کرنے کا اعادہ کیے رکھتی تھی، اب باقاعدہ طور پر والد کا بازو بن گئی ہے۔
مدھیا پردیش سے تعلق رکھنے والی ثناء علی کے والد سید ساجد علی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن میں بس ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے ہیں، تاہم ان کی بیٹی ثناء والد کا بازو بن کر گھر کو چلانا چاہتی تھی۔
جس کے لیے بیٹی کو خوب محنت کرنا تھی، ایسے میں والد اور گھر والوں نے بھی بیٹی کو خوب سپورٹ کیا، ایک معمولی بس ڈرائیور کے لیے یہ بہت ہی بڑا لمحہ تھا جب اس کی بیٹی اسی ادارے میں بطور سائنسدان بھرتی ہو گئی۔
ثناء علی اسسٹنٹ ٹیکنیکل انجینئر ادارے میں شامل ہوئی ہیں، غربت، معاشی طور پر کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ ثناء علی فیسوں کے لیے بھی پریشان رہتی تھی، تاہم والدہ اور والد نے ثناء کو تنہا نہیں چھوڑا اور اس کے خواب کو پورا کرنے میں مدد کی۔
بیٹی کی انتھک محنت اور کچھ کرنے کے عزم کو دیکھتے ہوئے ماں نے اپنا زیور بیچ دیا، تو والد نے لاکھوں روپے کا قرضہ تک لے لیا، تاکہ بیٹی کے ارمانوں کو پورا کیا جا سکے، یہ سب اقدامات والدین اس وقت اٹھاتے ہیں، جب بیٹی کا جہیز جمع کرنا ہو، مگر تعلیم کے لیے والدین کا یہ قدم اٹھانا، اس بات ثبوت ہے کہ ثناء کے والدین کو مکمل اعتماد اور بھروسہ تھا، کہ بیٹی ضرور کچھ کر دکھائے گی۔
ثناء کہتی ہیں کہ جس مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہو، اس تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن محنت کرو، اس دوران چاہے کتنی بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے، ہار نہیں ماننا۔ لیکن اسی دوران رشتہ داروں اور لوگوں نے والدین کو یہ بھی مشورہ دیا کہ بیٹی کو پڑھا کر کیا کرو گے؟ اس کی شادی کرا دو، تاہم والدین نے ان لوگوں کی باتوں پر دیہان نہیں دیا۔
والد کا کہنا تھا کہ میں ڈرائیور ہوں، اپنی بچی کو محنت اور لگن کے ساتھ پڑھایا، تنگی کے باوجود بچی کی پڑھائی کو نہیں روکا۔مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے، اور اس بات پر خوشی ہے۔