سری لنکا سے بھی برا حال ہوسکتا ہے اگر۔۔ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خطرات کتنے بڑھ چکے ہیں؟

image

پاکستان کیلئے دسمبر گزشتہ کئی دہائیوں سے قہر بن کر گزر رہا ہے، دسمبر کی سرد شاموں کو اکثر شاعر اپنی شاعری میں انتہائی رومانوی بناکر پیش کرتے ہیں لیکن پاکستان کیلئے دسمبر کبھی سقوط ڈھاکہ اور کبھی آرمی پبلک اسکول جیسے سانحات دیکر گیا ہے اور اب ایک بار پھر دسمبر کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں مصیبتوں اور پریشانیوں کے آثار بڑھتے جارہے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی کھینچا تانی کے دوران ایک بات شائد حکمران بھلائے بیٹھے ہیں کہ پاکستان اس وقت شدید معاشی خطرات سے گھرا ہوا ہے۔

چند ماہ پہلے ہم نے دیکھا تھا کہ ہمارا دوست ملک سری لنکا کیسے معاشی بدحالی کی وجہ سے دیوالیہ ہوا اور لوگ سڑکوں پر مارے مارے پھرتے رہے لیکن پیٹرول نہیں مل رہا تھا اور اس کے نتیجے میں پورے ملک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ سری لنکا کے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو انہوں نے حکمرانوں کے گھر تک جلادیئے۔

پاکستان میں سنجیدہ حلقے کئی مہینوں سے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلارہے ہیں کہ ملک کو بچالو لیکن حکمران اور سیاستدان صرف اپنی سیاست بچانے کیلئے ریاست کو بھلاچکے ہیں اور ریاست اس وقت شدید خطرات کی زد میں آچکی ہے۔

اس سے پہلے کہ آپ کو دیوالیہ کے خطرات سے آگاہ کریں، آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ ملک دیوالیہ ہوا تو عوام کو کیا مشکلات پیش آئینگی۔ تو دوستو ہمارے ملک کا نظام بھی تیل کی امپورٹ پر انحصار کرتا ہے۔ یہاں صرف گاڑیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ بجلی کی پیداوار اور انڈسٹری کا پہیہ بھی تیل اور امپورٹڈ گیس سے چلتا ہے۔

دوستو آپ اور ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ پاکستان اپنی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے گندم بیرون ممالک سے امپورٹ کرتا ہے۔ چینی بھی ہر سال لوگوں کو منہ کڑواکر کے حکومت کو امپورٹ پر مجبور کرتی ہے۔

پاکستان میں کھانے کا تیل، چاکلیٹ، ادویات، گاڑیوں کے پرزے، مشینری ، کیمیکلز اور دیگر بے شمار اشیاء امپورٹ کی جاتی ہیں اور اگر آسان الفاظ میں بات کریں تو پاکستان امپورٹ کے سہارے چل رہا ہے۔

اب آتے ہیں دیوالیہ کی طرف تو دوستو پاکستان نے 5 دسمبر کو ایک ارب ڈالر انٹرنیشنل بونڈ کی ادائیگی کرنی ہے اور گوکہ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مقررہ تاریخ سے 3 روز پہلے یعنی 2 دسمبر کو ہی ادائیگی کردیگا لیکن پاکستان کے مرکزی بینک میں ذخائر 18 نومبر تک 7اعشاریہ 8 ارب ڈالر تھے جو بمشکل ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔

حکومت پاکستان 50 کروڑ ڈالر ایشین انفرااسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک سے مزید قرض لے رہی ہے۔ اگر یہ 50 کروڑ ڈالر اور اسٹیٹ بینک کے 7 اعشاریہ 8 ارب ڈالر ملا بھی لیں تو یہ 8 اعشاریہ 3 ارب ڈالر بنتے ہیں۔

پریشانی کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف مزید قرض کیلئے فوری طور پر تیار نہیں اور ان سوا 8 ارب ڈالرز میں سے ایک اگر 1 ارب قرض کی ادائیگی کردیں تو ہمارے پاس ایک سے 5 ہفتوں کیلئے پیسے بچیں گے اور اس پر مزید پریشانی کی بات تو یہ ہے کہ جون 2023 کو ختم ہونے والے رواں مالی سال میں پاکستان کو 34ارب ڈالر قرض کی واپسی کرنا ہے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کے کوئی آثار نظر نہیں آتے، سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے ملک میں ڈالرز بھیجنے میں بھی شدید کمی آئی ہے۔ موجودہ حالات میں کوئی ملک پاکستان کو بڑی امداددینے کیلئے تیار نہیں ہے۔

رواں مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں قرضوں کا بوجھ 24 فیصد بڑھ گیا ہے، جی ڈی پی کی حالت دگرگوں ہے۔ ایسے میں پاکستان اگر دیوالیہ ہوتا ہے تو گاڑیوں کیلئے تیل ہوگا نہ چولہے جلانے کیلئے گیس امپورٹ ہوسکے گی۔

ڈالرز ختم ہوگئے تو کھانے کیلئے گندم منگوانا بھی مشکل ہوجائے گا۔سری لنکا تو چھوٹا سے ملک تھا تو شائد المیہ بھی چھوٹا ہی لگتا ہو لیکن اگر خدانخواستہ پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو ہولناک تباہی ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔


مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.