سڈنی کے ’ٹاک ٹاکر‘ پادری پر حملہ کرنے والے نوجوان پر دہشت گردی کا مقدمہ

image
آسٹریلیا میں گرجا گھر میں پادری پر چاقو سے وار کرنے والے 16 سالہ نوجوان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پولیس کی انسداد دہشت گردی کی مشترکہ ٹیم نے جمعرات کو نوجوان سے پوچھ گچھ کی اور دہشت گردی کے جرم کا مرتکب ہونے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

جرم ثابت ہونے پر انہیں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز کی ریاستی پولیس کمشنر کیرن ویب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ نوجوان کی ضمانت مسترد کر دی گئی ہے او انہیں جمعے کو بیڈ سائیڈ کورٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس یہ بیان دے گی کہ پادری پر چاقو کے چھ وار کیے گئے اور نوجوان نے اپنے گھر سے چرچ پہنچنے کے لیے 90 منٹ کا سفر کیا تھا۔

53 سالہ پادری مار ماری ایمینوئل کو ٹک ٹاک پر بہت سے نوجوان فالو کرتے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر تنقید اور آن لائن ٹرولنگ کا نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

وہ اپنے مذہبی وعظ میں اسلام، کووڈ ویکسینیشن، ہم جنس پرستی اور امریکی صدر جو بائیڈن کے انتخاب پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔

گرجا گھر میں پادری پر حملہ پیر کو اُن کی تقریر کی لائیو سٹریمنگ کے دوران کیا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)ماری ایمینوئل نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنے حملہ آور کو معاف کر دیا ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔

گرجا گھر میں پادری پر حملہ پیر کو اُن کے وعظ کی لائیو سٹریمنگ کے دوران کیا گیا تھا۔

ویڈیو میں گہرے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس نوجوان کو پادری کے پاس جاتے اور چاقو کے وار کرتے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد چرچ میں موجود افراد حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

اس واقعے سے قبل سنیچر کو سڈنی کے شاپنگ مال میں ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے چھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ 

یہ واقعہ سڈنی کے ویسٹ فیلڈ بونڈی مال میں پیش آیا تھا جہاں عام طور پر شاپنگ کے لیے آئے افراد کا رش ہوتا ہے۔

مقامی میڈیا پر نشر کی گئی فوٹیج میں ایک شخص کو آسٹریلوی رگبی ٹیم کی شرٹ پہنے اور ایک بڑی چھری اٹھائے مال میں بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.