کراچی کی ملیر جیل میں قید انڈین ماہی گیر نے باتھ روم میں خود کو پھندے سے لٹکا کر خود کشی کر لی۔جیل حکام نے عرب نیوز کو بتایا کہ گوراو نامی قیدی نے منگل کی رات کو جیل کے باتھ روم میں خودکشی کی۔انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ قاضی نذیر احمد نے بتایا کہ انڈین قیدی نے جیل کے باتھ روم میں خود کو ازاربند سے لٹکا لیا۔انڈین اور پاکستانی ماہی گیروں کو ایک دوسرے کے پانیوں میں داخل ہونے کی بنیاد پر حراست میں لینا معمول کی بات ہے۔ملیر جیل میں کئی قیدیوں کی صحت کی پیچیدگیوں کے باعث اموات بھی واقع ہو چکی ہیں۔گزشتہ ماہ بابو کانہ نامی قیدی کی صحت کے مسائل کے باعث موت واقع ہوئی تھی جبکہ سال 2023 میں دو انڈین ماہی گیر بالو جیتھا اور سوما دیوا کی بھی صحت کی خرابی کے باعث موت ہوئی۔انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ قاضی نذیر احمد نے بتایا کہ گوراو بظاہراً شدید ڈپریشن کا شکار تھے جس کی وجہ سے وہ یہ نہایت قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ گوراو کی سزا مکمل ہو چکی تھی لیکن رہائی کے لیے انڈیا کی طرف سے ضوابط مکمل ہونا باقی تھے۔’ساتھی قیدیوں نے رپورٹ کیا تھا کہ گوراو کے رویے سے ایسا عندیہ نہیں ملا کہ وہ خودکشی کریں گے لیکن وہ ڈپریشن کا شکار تھے۔‘ملیر جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ نے بتایا کہ گوراو کو 17 فروری 2022 میں ملیر جیل لایا گیا تھا۔
پاکستانی اور انڈین ماہی گیروں کو حراست میں لینا معمول کی بات ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
انہوں نے بتایا کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے گوراو کا معائنہ کرنے کے بعد انہیں مردہ قرار دیا جبکہ لاش کو ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سرحد کے دونوں جانب انسانی حقوق کے کارکن طویل عرصے سے ان ماہی گیروں کی رہائی کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں جو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں قید ہیں، جبکہ اہل خانہ واپسی کی راہ تکتے رہتے ہیں۔انڈین سماجی کارکن جتن دیسائی کا کہنا ہے کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق، 216 ماہی گیر ابھی بھی پاکستانی جیلوں میں قید ہیں جبکہ 81 پاکستانی ماہی گیر انڈیا کی جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کا کہنا ہے کہ انڈین شہریوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جاتا ہے اور پاکستانی حکام ان کی رہائی کے لیے تمام قانونی تقاضوں کو مکمل کرنے میں تاخیر نہیں کرتے۔’یہی وجہ ہے کہ قیدی باقاعدگی کے ساتھ رہا ہوتے رہتے ہیں اور اپنے ملک واپس بھیجے جاتے ہیں لیکن ہمیں افسوس ہے کہ گوراو کو انڈیا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ نہ ملایا جا سکا۔‘