صحت سے متعلق اکثر گائیڈز میں ایک دن میں چھ سے آٹھ گلاس پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دن بھر ہائیڈریٹ رہنا ضروری ہے لیکن یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ اکثر رات کو اُٹھ کر بار بار باتھ روم جاتے ہیں تو آپ کو سونے اوقات کے قریب پانی کم پئیں۔

آگر آپ کو رات میں سونے میں دشواری ہو رہی ہے تو پھر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس میں آپ کی خوراک اور مشروبات کا کیا کردار ہوتا ہے۔
بہت سی چیزیں آپ کی نیند کو متاثر کر سکتی ہیں۔ روزمرہ کی معمولات، بشمول دباؤ، ورزش اور غذا بھی نیند کو متاثر کرتے ہیں۔
نیند کے ماہر پروفیسر کیئون مورگن کا کہنا ہے کہ خوراک یقیناً نیند پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
کھانے کے اوقات میں باقاعدگیوں کے نیند پر اثرات
پروفیسر مورگن کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس بات کے شواہد بہت کم ہیں کہ آپ سونے کے لیے کھانا کھائیں لیکن خوراکہماری نیند متاثر کر سکتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ نیند کو معمول پر رکھنے کے لیے تمام عادات اور معمولات میں پابندی ضروری ہے۔
پروفیسر مورگن کا کہنا ہے کہ جسم کے اندر بھی ایک گھڑی ہے۔ جسے سرکیڈین ردھم (circadian rhythm) کہتے ہیں۔ جو آپ کے لیے مخصوص ہے اور آپ اس کے عادی ہیں۔
کھانے کے اوقات اس میں ’اہم اشارے‘ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ دن اور رات کب ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جسم کی گھڑی سرکیڈین ردھم میں خلل پڑنے سے نیند متاثر ہوتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ایسے وقت میں کھانا کھائیں جو جسم کے لیے آرام دہ ہو اور کھانے کے اوقات کی پابندی کریں۔
مورگن کہتے ہیں کہ ’ہر کوئی اپنے معمول کے کھانے کے پیٹرن سے بار بار ہٹ جاتا ہے، لیکن آپ کے ردھم کو معمول پر آنے میں کچھ دن لگتے ہیں۔‘

کم غذائیت والی خوراک اور نیند
غذائیت سے بھرپور غذائیں نیند کے لیے بہتر ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ نیند کی کمی کے شکار افراد میںممکنہ طور پر کیلشیئم، میگنیشیئم اور وٹامن ڈی کی کمی ہو سکتی ہے۔
50 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں بے آرام نیند اور جسم میں وٹامن سی، ڈی اور ای کی کمی کا براہراست تعلق ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کم نیند کے اوقات ہی کم کھانے کی وجہ سے ہوتے ہیں، یا بے خوابی کے شکار افراد میں متوازن غذا کھانے کا رجہان کم ہوتا ہے۔
آپ جو کھاتے ہیں وہ آپ اپنی آنتوں میں موجود لاکھوں بیکٹیریا کو بھی کھلاتا ہے۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ آنتوں میں موجود مختلف طرح کے مائیکروبز بھی نیند کو بہتر بناتے ہیں۔ کنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹم اسپیکٹر اور آنتوں کے صحت کے حوالے سے ڈاکٹر میگن روسی آنتوں میں مائیکرو بایوم کو بڑھانے کے لیے ایک ہفتے کے دوران کم از کم 30 مختلف نوعیت کے پودے کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میوہ جات، دالیں، اناج، بیج اور جڑی بوٹیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ فائبر والے پھل سبزیاں، پروبائیوٹکس کھائیں لیکن پروسیس شدہ کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔
کیفین کے نیند پر اثرات
آپ دن بھر میں جتنی بھی کیفین لیتے ہیں، پانچ سے چھ گھنٹے گزرنے کے بعد نصف مقدار جسم میں موجود رہتی ہے جبکہ دس سے بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی اس کی ایک چوتھائی مقدار جسم میں باقی رہتی ہے۔
کیفین جسم میں کیمیکل اڈینوسین کے رسیپٹرز کو روکتا ہے، جو جسم میں تھکاوٹ کے احساسات کو ظاہر کرتے ہیں اور اسی وجہ سے کیفین کے استعمال سے نیند متاثر ہوتی ہے۔
نیند کے ماہر پروفیسر میٹ واکر کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو نیند آ بھی جائے تب بھی کیفین گہری نیند کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگلی صبح آپ ترو تازہ نہیں اُٹھتے۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس کے ساتھ ساتھ چاکلیٹ میں کیفین ہوتی ہے۔

شراب کے نیند پر اثرات
نیند کے ماہر پروفیسر میٹ واکر کا کہنا ہے کہ شراب کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسے پی کر نیند آ جائے گی لیکن یہ بالکل درست نہیں ہے۔ اس میں نشہ یا سکون ضرور ہے لیکن نشہ قدرتی نیند سے بہت مختلف ہے۔
انھوں نے کہا کہ نشہ ’دماغ کے خلیات میں ہونے والی توڑ پھوڑ‘ کو بند کر دیتا ہےلیکن گہری نیند کے دوران دماغ ’لاکھوں خلیوں کی توڑ پھوڑ سے دماغی لہریں بناتا ہے۔‘
الکوہل آنکھ کی پتلی کی حرکت کو بھی روک دیتی ہے۔ جب آپ نیند میں خواب دیکھتے ہیں تو جذباتی، ذہنی اور تخلیقی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
شراب اعصابی نظام کو بھی تیز کر دیتی ہے جو آپ کو رات میں زیادہ کثرت سے جگا دیتے ہیں۔
مورگن مشورہ دیتے ہیں کہ ’آپ اپنی نیند کو بہتر بنانے کے لیے جو بھی غذائی ایڈجسٹمنٹ کرتے ہیں الکوہل اُس کے اثرات ختم کر دیتی ہے۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ بہت ہی کم مقدار میں اس کے استعمال کا زیادہ اثر نہیں ہوتا ہے۔
سونے سے پہلے بہت زیادہ پانی پینا
صحت سے متعلق اکثر گائیڈز میں ایک دن میں چھ سے آٹھ گلاس پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دن بھر ہائیڈریٹ رہنا ضروری ہے لیکن یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر آپ اکثر رات کو اُٹھ کر بار بار باتھ روم جاتے ہیں تو آپ سونے کے اوقات کے قریب کم پانی پئیں۔
مورگن کے مطابق، چاہے یہ اچھی نیند کے لیے معاون مشروبات ہی کیوں نہ ہوں، جیسے جڑی بوٹیوں کا قہوہ یا گرم دودھ جو سونے میں مدد دیتے ہیں لیکن اُن کے بقول عموماً اس کا انحصار بھی عادات پر ہوتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جو لوگ عام طور پر سونے سے پہلے گرم دودھ پیتے ہیں اگر وہ دودھ نہ پئیں تو اُن کی رات کی نیند خراب ہو سکتی ہے۔ کیمومائل ٹی یا گلِ بابونہ کے قہوے کو اکثر بے چینی، بے خوابی اور نیند کے دیگر مسائل کو کم کرنے میں معاونت کرتا ہے اور اگر آپ رات کو دیر سے قہوہ نہیں پینا چاہتے تو کیمومائل کی گولیاں دستیاب ہیں۔‘
لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود بھی اگر رات میں آپ نیند سے بار بار جاگتے ہیں تو پھر آپ کو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔