لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ اس وقت جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے۔ چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے اسپتال کا دورہ کیا اور طالبہ و اس کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔
اس موقع پر حنا پرویز بٹ نے بتایا کہ طالبہ کو ہوش میں آنے کے بعد وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور اب اس کی حالت میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبہ کی جان بچانا اولین ترجیح ہے اور جنرل اسپتال کی انتظامیہ علاج کے ہر مرحلے کی سخت مانیٹرنگ یقینی بنائے۔
حنا پرویز بٹ نے ہدایت کی کہ طالبہ کو بہترین طبی، نفسیاتی اور ری ہیبلیٹیشن سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے تمام پہلوؤں، جن میں یونیورسٹی انتظامیہ کا کردار اور ممکنہ گھریلو کشیدگی شامل ہے، کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں گی۔
چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے مطابق پسند کی شادی اور تعلیم سے متعلق دباؤ کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے سے قبل کی آخری کال اور موبائل فون ریکارڈ کی فرانزک جانچ بھی کی جا رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ واقعے سے قبل اور بعد کے تمام حقائق قانون کے مطابق سامنے لائے جائیں گے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔