سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد زخمی ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں شہری علاقوں کے ساتھ اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت مختلف علاقوں میں حملے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں سعودی سلامتی اور خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
حملوں کے بعد بعض توانائی تنصیبات پر کام عارضی طور پر متاثر ہونے اور مختلف مقامات پر آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ جازان میں آرامکو کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب حوثیوں نے سعودی حکام کی جانب سے بتائی گئی اموات اور نقصانات کی تفصیلات پر فوری طور پر واضح ردعمل نہیں دیا۔ تازہ کارروائیوں کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔