خیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے سخت فیصلے ناگزیر تھے، وفاق صوبے کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم

image

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہوچکا تھا۔ وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر صوبے کے عوام کے مسائل حل کرے گی اور خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کا دور واپس لائے گی۔

گورنر ہاؤس پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبر پختونخوا کی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، اعلیٰ عسکری قیادت اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بریفنگ دی گئی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 2018 تک سکیورٹی اداروں اور عوام کی عظیم قربانیوں کی بدولت خیبر پختونخوا میں مکمل امن قائم ہوچکا تھا، تاہم پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا، جس سے گزشتہ قربانیوں کو شدید نقصان پہنچا اور عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں 80 ہزار افراد شہید ہوئے اور ملک کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ سابق صوبائی حکومت نے تعلیم، صحت اور امن و امان کو نظر انداز کیا۔ صوبے میں پولیس کی 5 ہزار اسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں، سیف سٹی منصوبہ نامکمل رہا اور پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ و تربیت کی فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کے لیے خیبر پختونخوا کو اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی میں دوبارہ اضافہ ہوا۔

وزیراعظم نے صوبے میں مبینہ بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کے منصوبے میں 100 ارب روپے اور کوہستان میگا اسکینڈل میں 37 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، جبکہ پلیسر گولڈ منصوبے میں بھی من پسند افراد کو ٹھیکے دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات سے متعلق صدر مملکت آصف علی زرداری سے مشاورت کی گئی اور 48 گھنٹے کے سیاسی مذاکرات کے بعد آئین اور قانون کے مطابق سخت فیصلے کیے گئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے۔ تمام ریاستی ادارے متحد ہو کر کام کریں گے اور دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے پائیدار امن کے لیے وفاقی حکومت اور عسکری اداروں کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US