تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں تھا، میری ضرورت نہیں تھی: خواجہ آصف کا مولانا کو جواب

image

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کی گزشتہ روز کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع کی بات ہو رہی تھی، اس لیے وہاں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تہران میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ وزارت دفاع کے مینڈیٹ میں شامل نہیں تھا، تاہم حالیہ دنوں میں ہونے والے دیگر دفاعی معاہدوں میں وہ بطور وزیر دفاع شریک رہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل صلح کے پیامبر بن کر تہران گئے تھے اور انہوں نے وہاں ایک جنگ رکوائی، کیونکہ یمن کا تنازع بگڑ سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور فیلڈ مارشل کے امن کا کردار تسلیم کیا جانا چاہیے، اور امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو بھی کچھ شرم اور حیا کرنی چاہیے کیونکہ وہ 40 سال مختلف عہدوں پر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا 10 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، وہ بتائیں کہ انہوں نے اس دوران کیا خدمات سرانجام دیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مولانا کا ماضی تضادات سے بھرا ہوا ہے اور یہاں کوئی بھی آبِ زم زم سے دھلا ہوا نہیں ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے دورہ افغانستان پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے افغانستان کا دورہ کیوں کیا اور وہاں جانے کی پیشکش کیوں کی؟ جبکہ وہ وزیر خارجہ بھی نہیں تھے، ان کے اس دورے کا مقصد صرف اپنی سیاست کو آگے بڑھانا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US