امریکا اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں یا مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بڑے پیمانے پر ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
امریکی ویب سائٹ 'ایکسیوس' کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدہ نہ ہونے پر امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کی قیادت، توانائی کے شعبے، جوہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اور یہ حملے ممکنہ طور پر ایک ہفتے تک جاری رہ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ثالثی کرانے والے ممالک ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دے جنہیں ماضی میں نقصان پہنچا تھا، جبکہ اس کے بدلے ایران کو امریکی پابندیوں میں کچھ نرمی کی پیشکش کی گئی ہے۔
علاقائی ذرائع اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تہران کو خبردار کیا گیا ہے کہ ان تجاویز کی قبولیت ہی امریکی انتخابات کے بعد ممکنہ شدید حملوں سے بچنے کا واحد ذریعہ ہوسکتی ہے، اور ایران آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اپنے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
امریکا کا بنیادی مطالبہ ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے سے دستبردار ہو، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ واشنگٹن پہلے اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے اور منجمد اثاثے بحال کرے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے گفتگو جاری ہے تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، لیکن اس معاملے کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔