’پاکستان کے لیے ایک اور نوبیل لانا چاہوں گا‘

08 Oct, 2017 بی بی سی اردو
لاہور کے باسی 17 سالہ سائنس دان محمد شہیر نیازی نے اس کم عمری میں اپنی سائنسی تحقیقات سے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔
شہیر نیازی
BBC

ان کی عمر محض 17 برس ہے مگر اپنے سائنسی تحقیقاتی مضمون سے انھوں نے دورِ حاضر کے عالمِ طبیعات کو نہ صرف حیران کیا بلکہ تحقیق کے لیے ایک نیا زاویہ فراہم بھی کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے رہائشی محمد شہیر نیازی کی برقی چھتوں یعنی 'الیکٹرک ہنی کوم' پر کی گئی تحقیق پر مبنی مضمون گذشتہ ماہ رائل سوسائٹی اوپن سائنس جنرل نے شائع کیا ہے۔

یہ جریدہ دنیا بھر سے سائنس، ریاضی اور انجینیئرنگ کے میدان میں ہونے والی تحقیقات شائع کرتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اے لیول کے طالبِ علم شہیر نیازی نے فخر سے بتایا کہ کم عمری میں سائنسی تحقیق شائع کرنے کے اعتبار سے انھوں نے ماضی کے مشہور سائنسدان اور ماہرِ طبیعیات آئزک نیوٹن کو پیچھے چھوڑ دیا۔

'نیوٹن کا پہلا تحقیقاتی مضمون بھی اسی رسالے میں شائع ہوا تھا، اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔ جب میرا مضمون گزشتہ ماہ شائع ہوا تو تب میں 16 برس کا تھا۔' شہیر نے گزشتہ ستمبر کی 25 تاریخ کو 17ویں سالگرہ منائی۔

ماہرِ طبیعیات برقی چھتے کے رحجان سے کئی دہائیوں سے واقف ہیں۔ تاہم یہ برقی چھتہ ہوتا کیا ہے اور شہیر کی تحقیق نے ایسے کون سے پہلو عیاں کیے ہیں جس پر دنیا کہ سائنسدان ان کے معترف ٹھہرے؟

گھنے گھنگھریالے بالوں کے ساتھ ناک پر چشمہ بٹھائے دبلی پتلی قدوقامت والا نوجوان سائنس دان بخوبی جانتا ہے کہ اس سے یہ سوال ضرور کیا جائے گا۔ ان کے گھر میں داخل ہوں تو لاؤنج ہی میں ایک میز پر ڈبوں میں برقی تاروں اور سرکٹس کا ڈھیر لگا ملتا ہے۔ یہاں بیٹھ کر وہ تجربے کرتے ہیں۔

انتہائی تحمل کے ساتھ، ٹھہرے ہوئے لہجے میں شہیر برقی چھتوں کے تصور کی وضاحت کرتے ہیں۔

شش پہلو شہد کے چھتے
BBC
شہیر کے مطابق شش پہلو کائنات کی سب سے متوازن ساخت ہے

'سادہ الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کائنات میں ہر چیز کو توازن چاہیے۔ برقی قممے اسی رجحان کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ ان کی شش پہلو شکل کائنات میں سب سے متوازن ساخت ہے۔'

سائنسی تجربے میں دو الیکٹروڈز ہوتے ہیں، ایک سوئی اور دوسری آہنی پلیٹ۔ اس پلیٹ پر تیل ڈال دیا جاتا ہے۔ تیل میں سے بجلی نہیں گزر سکتی۔ ایک الیکٹروڈ یعنی سوئی سے جب ہائی وولٹیج گزرتی ہے تو وہ ایک چھوٹے پیمانے پر ایسا ہی عمل ہوتا ہے جیسے آسمانی بجلی گرتی ہے۔

جب برق پاروں کا دباؤ تیل پر زیادہ بڑھ جاتا ہے تو وہ انھیں راستہ دے دیتا ہے اور وہ دوسرے الیکٹروڈ سے جا ملتے ہیں۔ تاہم تیل نہیں چاہتا کہ اس کی شکل بگڑے اس لیے جب وہ توازن دوبارہ حاصل کرتا ہے جس کے نتیجے میں شہد کی مکھیوں کے چھتے کی شکل کے ڈھانچے بنتے ہیں۔

شہیر کے مطابق کائنات میں توازن کے تصور کے اس مخصوص رجحان پر تحقیق ہوئی ضرور تھی مگر زیادہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان کی والدہ نے سنہ 2016 میں ان کے لیے روس میں ہونے والے بین الاقوامی نوجوان ماہرِ طبیعیات کے ٹورنامنٹ، جسے علمِ طبیعات کا ورلڈ کپ بھی کہا جاتا ہے، میں مقابلہ کرنے کا موقع تلاش کیا تو وہاں انھیں یہی اسی سائنسی مسئلے پر کام کرنے کو کہا گیا۔

شہیر کی تحقیق جس نئے پہلو کو سامنے لائی وہ تھا تیل کی سطح پر حرارت کا فرق۔ شہیر نے اس عمل کی تصویر کشی بھی کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس وقت انھیں ویسا ہی احساس ہوا جیسا انہیں بچپن میں پہلی دفعہ گھر کی چھت پر کیے گئے کیمیکل تجربے کی کامیابی پر ہوا تھا۔

'مجھے معلوم تھا کہ ایسا پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ میں نے اس حوالے سے ماضی میں کی جانے والی تحقیقات پر مضامین پڑھ رکھے تھے۔'

روس سے واپسی پر انھوں نے اس تحقیق کو دنیا کہ کسی اچھے رسالے میں شائع کرنے کی ٹھانی جس کے لیے انھیں مزید ایک سال تحقیق کرنی پڑی۔

اس دوران انھوں نے انٹرنیٹ کی مدد حاصل کی اور تجربوں کے لیے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمینٹ اینڈ سائنسز کی لیبارٹری استعمال کرتے رہے۔

شہیر کو علم اور تحقیق سے دوستی کا ماحول گھر ہی سے ملا۔ ان کے والد اور دادا کی دلچسپی سائنس اور خصوصاٌ علمِ طبیعیات میں تھی۔ 11 برس کی عمر سے وہ انٹرنیٹ پر موجود مختلف موضوعات پر باقاعدہ کورس کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک مشہور آن لائن پورٹل 'کورسیرا' پر وہ اب تک 25 کے قریب کورس کر چکے ہیں۔

'میں سکول میں پڑھائی جانے والی چیزوں سے جب بیزار ہو جاتا ہوں تو آن لائن کورسز کا رخ کرتا ہوں۔ اس طرح آپ اچھی یونیورسٹیوں سے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔'

ہر سائنسدان کی طرح شہیر کے ذہن میں تجسس کی رو ہر وقت موجود رہتی ہے۔ تاہم ساتھ ہی وہ ٹھہراؤ کے بھی متلاشی رہتے ہیں۔ ان کی والدہ کہتی ہیں شہیر موسیقی سے بھی دلچسپی ہے۔ گھر میں ان کا ایک عدد پیانو موجود ہے جسے بجانا بھی انہوں نے انٹرنیٹ سے سیکھا ہے۔

شہیر نیازی
BBC

وہ ایک اچھے مصور بھی ہیں اور خاکے کافی اچھے بنا لیتے ہیں۔ سائنس سے دلچسپی کی وجہ سے ان کے گزر اوقات کے لیے کھلونوں میں بھی دوربین یا دور درشک جیسی چیزیں شامل ہیں۔

شہیر کہتے ہیں کہ برقی چھتوں کے چمل سے حاصل ہونے والے علم کا استعمال بائیو میڈیسن، پرنٹنگ اور انجینیئرنگ میں ہوتا ہے۔ 'اس طریقے سے ہم برقی رو یا تیل کے ذریعے دوا کی ترسیل کر سکتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے تیل کے ساتھ جوڑ توڑ کی جا سکتی ہے۔'

مستقبل میں شہیر طبیعات کے حوالے سے علم کو بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دنیا کی کسی اچھی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے اس شعبے میں تحقیق کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

'میں پاکستان کے لیے ایک اور نوبل پرائز لانا چاہوں گا۔'

وہ کہتے ہیں انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انہیں اس قدر پذیرائی ملے گی۔ تاہم اس بات پر وہ خوش ہیں کہ ان کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے۔

 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: