سپریم کورٹ: مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو کاغدات کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے

13 Jun, 2018 بی بی سی اردو
سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو ایک دن کی مہلت دیتے ہوئے 14 جون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مشرف کی عدم پیشی کی صورت میں کاغذات کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔
مشرف
AFP
عدالت کا کہنا ہے کہ جب پرویز مشرف نے سنہ1999 میں اتنے بڑے ملک پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت اُنھیں خوف کیوں نہیں آیا۔

سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو ایک دن کی مہلت دیتے ہوئے 14 جون کو وطن واپس آ کر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر پرویز مشرف وطن واپس نہ آئے تو اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔

اس سے پہلے عدالت نے ملزم پرویز مشرف کو 13 جون تک سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں مزید خبریں

مشرف کی شرط: ’تمام کیسز میں ضمانت دی جائے‘

پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک

آصفہ اور بختاور کی پرویز مشرف پر کڑی تنقید

پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطے کا حکم

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری برانچ میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل ملک قمر افضل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل عدالت میں پیش ہو رہے ہیں جس پر پرویز مشروف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے تو ان کے موکل آئین شکنی کے مقدمے سمیت دیگر مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت ملزم پرویز مشرف کی واپسی سے متعلق ان کی طرف سے پیش کی جانے والی شرائط کی پابند نہیں ہے۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا کہ ان کے موکل کس خوف میں مبتلا ہیں اور کس بات کی ضمانت چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اتنا بڑا کمانڈو وطن واپس آنے میں کیوں خوف زدہ ہے۔‘ اُنھوں نے کہا کہ جب پرویز مشرف نے سنہ1999 میں اتنے بڑے ملک پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت اُنھیں خوف کیوں نہیں آیا۔

واضح رہے کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرلپرویز مشرف نے جب اس وقت کے وزیر اعظم منواز شریف کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور آئین کو معطل کر کے عبوری آئینی حکم نامہ جاری کیا تھا تو چیف جسٹسثاقب نثار ان اعلی عدلیہ کے ججز میں شامل تھے جنھوں نے پرویز مشرف کے پہلے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔

مشرف
AFP

پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو رعشہ کی بیماری ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف ایئر ایمبولنس سے آجائیں تو ان کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیں گے۔

بینچ کے سربراہ نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اگر پرویز مشرف کو رعشہ کی بیماری ہے تو وہ عام انتخابات میں ’مکہ‘ کیسے لہرائیں گے۔

عدالت نے ملزم پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے متعلق کہا کہ سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پرپرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی تھی بلکہ اس وقت کی حکومت نے ملزم کا نام ای سی ایل سے نکال کر اُنھیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔

پرویز مشرف کی وطن واپسی سے متعلق سپریم کورٹ ملزم کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کرنے کا بھی حکم دے رکھا ہے۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے حکم پر پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا تھا۔


 

Watch Live News

 مزید خبریں 
« مزید خبریں
Post Your Comments
Select Language: