پاکستانی لڑکیاں چینی لڑکوں سے شادی پر کیوں تیار ہوئیں؟

16 May, 2019 وائس آف امریکہ اردو
واشنگٹن — گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستانی لڑکیوں کی چینی لڑکوں سے شادی اور پھر اُن کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی رہی ہیں۔ ان شادیوں کے لیے نسبتاً غریب گھرانوں کی مسلمان لڑکیوں اور خاص طور پر مسیحی لڑکیوں کو ہدف بنایا گیا۔

شادی کے لیے لڑکی کے انتخاب کے وقت چینی لڑکوں کا کہنا تھا کہ وہ مالی طور پر مستحکم ہیں اور انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام یا عیسائی مذہب اختیار کر لیا ہے۔ اس سے متاثر ہو کر پاکستان کی متعدد مسلمان اور عیسائی لڑکیوں اور ان کے والدین نے بہتر مستقبل کی خاطر یہ رشتے قبول کر لیے۔ تاہم شادی کے بعد چین سے واپس آنے والی چند لڑکیوں نے ان کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے متعلق ایسے انکشافات کیے جن سے یہ تاثر زور پکڑنے لگا کہ دراصل پاکستانی لڑکیوں سے شادی کے واقعات ممکنہ طور پر انسانی سمگلنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔

مذکورہ لڑکیوں کی طرف سے الزامات کے بعد پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ’ایف آئی اے‘ حرکت میں آ گئی اور اُس نے شادیوں کے اس کاروبار میں ملوث 27 چینی اور اُن کے 5 پاکستانی ساتھیوں کو حراست میں لے کر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔


WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels
 
« مزید خبریں