امریکہ: بچوں کی 168 غذائی اشیا پر تجربات، 95 فی صد میں زہریلے اجزا ہونے کا انکشاف

امریکہ میں بچوں کو دی جانے والی غذاؤں کی جانچ پڑتال سے انکشاف ہوا ہے کہ 95 فی صد غذائی اشیا میں خطرناک زہریلے مادے اور دھاتیں موجود ہوتی ہیں جو بچوں کی ذہنی نشوونما کو تباہ کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
تحقیق کی غرض سے امریکہ کے تین بڑے پیداواری اداروں کی تیار کردہ 168 غذائی اشیا کے نمونوں کو ٹیسٹ کیا گیا۔ اس حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان نمونوں میں 95 فی صد میں سیسہ، 73 فی صد میں آرسینک یعنی سنکھیا نامی زہر اور 32 فی صد میں پارے کی موجودگی کا انکشاف ہوا جب کہ ایک چوتھائی غذائی اشیا ایسی تھیں جن میں یہ چاروں دھاتیں پائی گئیں۔
امریکی نشریاتی ادارے "سی این این" کی رپورٹ میں غذائی ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لیڈ یعنی سیسے کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو وہ صحت کے لیے مضر ہوتی ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کیے گئے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ بچوں کے کھانے پینے کے 39 اشیا میں سے 33 فی صد میں ایک یا ایک سے زائد دھاتیں پائی جاتی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھاتیں اور زہریلے مادے بچوں کی ذہانت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
چاول سے بنی اشیا مثلا نوزائیدہ بچوں کے لیے بنائے گئے رائس سیریل، چاول سے بنی مختلف مصنوعات اور اسنیکس زہریلی خوراک میں سر فہرست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان اشیا میں آرسینک کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔
اس سے قبل کی گئی ایک تحقیق کے مطابق آرسینک بچوں کی ذہنی نشوونما کو بڑی حد تک متاثر کرتی ہے۔ بنگلہ دیشی بچوں پر 2004 میں کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا تھا کہ جن بچوں نے آرسینک یا زہریلا پانی پیا ہو وہ ذہنی آزمائش کے امتحان میں بری طرح ناکام رہے۔
اس موضوع پر 2004 میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ ان بچوں کے پیشاب میں آرسینک کی سطح میں 50 فی صد تک اضافہ نوٹ کیا گیا جب کہ 5 سال سے 15 سال تک کی عمر کے ان بچوں کی ذہنی نشوونما میں صفر اعشاریہ چار پوائنٹ کمی نوٹ کی گئی۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق آرسینک ایک قدرتی عنصر ہے جو مٹی ، پانی اور ہوا میں پایا جاتا ہے۔ اس کی غیر نامیاتی شکل سب سے زیادہ زہریلی ہوتی ہے۔
چونکہ چاول پانی میں اگایا جاتا ہے لہذا یہ زمین میں پائے جانے والے آرسینک کو قدرتی طور پر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

News Source : VOA

YOU MAY ALSO LIKE :