بولیویا: خاتون سینیٹر نے خود کو ملک کا صدر قرار دے دیا

بولیویا کی سیاست میں بڑی ہل چل، صدر کے مستعفی ہونے کے بعد اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھنے والی خاتون سینیٹر نے خود کو ملک کا صدر قرار دے دیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بولیویا میں 20 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں مستعفی ہونے والے صدر ایو مورالز نے خود کو دوسری مدت کے لیے ملک کا صدر قرار دیا تھا۔
ایو مورالز کی جانب سے فتح کے اعلان کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے اور 20 روز تک جاری رہنے والے فسادات میں 3 لوگ ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
ملک بھر میں جاری ہنگاموں کے بعد بولیویا کے آرمی چیف نے صدر ایو مورالز سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا جس پر وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی خاتون سینیٹر جینین اینز نے خود کا بولیویا کا عبوری صدر قرار دےدیا ہے۔ جینین اینز کا کہنا ہے کہ ملکی آئین کے مطابق وہ صدر کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں اس لیے ملک کی صدر ہیں۔ انہوں نے بولیویا میں جلد انتخابات کرانے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
دوسری جانب مستعفی ہونے والے صدر ایو مورالز نے جینین اینز کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے انہیں تختہ الٹنے والی دائیں بازو کی سوداگر سینیٹر قرار دیا ہے۔
ایو مورالز صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد میکسیکو فرار ہو چکے ہیں جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ بولیویا میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔
News Source : Bol News

YOU MAY ALSO LIKE :