خواتین فیس بک پر کیسے محفوظ رہیں؟ فیس بک نے خواتین کو پانچ طریقے بتا دیے

سوشل میڈیا پر خواتین کوہراساں کیے جانے کا معاملہ دنیا بھر میں زور پکڑ چکا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں آن لائن ہراسگی سے نمٹنے کیلئے سائبر کرائمز سیل بھی متحرک ہیں۔ تاہم اس کے باوجود خواتین کی انٹرنیٹ کے دوران استعمال ہراسگی ایک سوالیہ نشان بن چکاہے۔

حال ہی میں جنوبی کوریا میں دوخواتین سلیبرٹی کی خودکشی بھی اسی بات کی ایک کڑی ہے۔ کے پوپ گلوکارہ اور اداکارہ گوہارا اور اداکارہ سللی کی مبینہ خود کشی نےجہاں ایک جانب دنیا کوہلادیا تو وہیں سوشل میڈیاپر کی جانے والی ہراسگی نےخواتین کے غیرمحفوظ ہونےکاعندیہ بھی دے دیا۔
آج کل عام استعمال کی جانے والی سوشل میڈیا ویب سایٹ فیس بک پرخواتین کاغیرمحفوظ ہونا ایک اہم مسئلےکی نشان دہی ہے جو کہ سائبرکرام جس میں بلیک میلنگ کاعنصر سرفہرست ہے، کی جانب توجہ دینا اور اس کی درستگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ بہت اہم بات ہے کہ خواتین کوہراسانی سے بچانے کیلئےان تمام وسائل اور ذرائع کا علم ہو جن کے ذریعے وہ خود کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔
خاص بات یہ ہےکہ اپنی نجی زندگی کوصرف اپنی ذات تک محدودرکھنا اور آن لائن ہراسانی سے بچنےکے لیے حفاظتی اقدامات کے بارے میں یہ جانناکہ وہ کیسےبچ سکتی ہیں؟ یہ سب کچھ شامل ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سایٹ فیس بک کی جانب سے انفوگرافک تصویرمیں خواتین کی آگاہی کے لیے کچھ مشورے دیے گئے ہیں جس پرعمل پیرا ہوکرخواتین اپنے آپ کوآن لائن ہراسگی سے بچا سکتی ہیں۔

فیس بک نے خواتین کے محفوظ رہنے کے پانچ طریقے بتا دیے:

پہلا اصول یہ ہے کہ فرینڈریکوئسٹ قبول کرتےہوئےاحتیاط کی جائے اور دوستوں کی ریکوئسٹ ان سے پوچھ کے قبول کریں۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ خواتین اپنی پوسٹ دیکھنے یا نہ دیکھنے کے لیے مخصوص لوگوں کو دھیان سے منتخب کریں۔

تیسرا اصول خود کوکسی بھی پوسٹ اورتصویر میں ٹیگ کیے جانے کا آپشن پہلے ہی آف کردیں۔

چوتھا اصول یہ ہے خواتین فیس بک پرخود کو سرچ کیے جانے کے امکانات کم سے کم رکھیں جس کیلئےفون نمبر اور ای میل کوپبلک نہ رکھا جائے۔

پانچواں اصول لاگ ان نوٹیفیکشن کو بھی آن رکھا جائے اور فیس بک اکاؤنٹ کھولنے کے لیے دہرے حفاظتی اقدامات یعنی فون پر کوڈ بھیجنے جیسی سیکیورٹی سیٹنگز اپنائیں۔ News Source :BBC News

YOU MAY ALSO LIKE :