توانائی کے شعبے میں خواتین کا کردار  

 

خواتین تقریباً ہر ہی شعبے میں مَردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں گو کہ اُن کی تعداد اب بھی مَردوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے، لیکن خوش آیند پہلو یہ ہے کہ جاب مارکیٹ میں خواتین کا حصّہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بیش تر خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوائیں اور پھر خود کو منوانے کے لیے وہ روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہوجاتی ہیں۔ یہ خواہش اور عزم اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت ہے کہ اب بھی خواتین کو ملازمت کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔’’ وی پاور‘‘ (WePOWER) ورلڈ بینک کے سائوتھ ایشیا انرجی اور سوشل ڈیویلپمنٹ یونٹس کی جانب سے قائم کیا گیا ادارہ ہے، جس کا مقصد روزگار کے حصول میں خواتین کو درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔
واضح رہے، عالمی بینک کی جانب سے جنوبی ایشیا کے آٹھ ممالک میں کروائے گئے ایک سروے کی بنیاد پر اس ادارے کو قائم کیا گیا۔ عالمی بینک کے اس سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انجینئرنگ کے شعبے میں خواتین کی شمولیت بہت کم ہے، جو 0.5 سے 31.0 فی صد تک ہے۔ اسی طرح یوٹیلیٹی اداروں میں بھی خواتین کی تعداد2.0 سے 17.0 فی صد تک ہے، جو تسلّی بخش نہیں۔ نیز، ان یوٹیلیٹی کمپنیز کے تیکنیکی شعبوں میں خواتین کا تناسب اس سے بھی کم،یعنی 0.5 سے 6.0 فی صد تک ہے۔
اس جائزے میں یہ بات بھی نمایاں طور پر سامنے آئی کہ خواتین کو روزگار کے حصول میں متعدّد اقسام کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی، امتیازی سلوک ، ہراساں کرنے کے واقعات اور دیگر بنیادی سہولتوں کا فقدان وغیرہ شامل ہیں۔
فروری 2019ء میں دنیا بھر سے 250 سے زاید انجینئرز اور توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز نیپال کے دارالحکومت، کھٹمنڈو میں ویمن ان پاور سیکٹر نیٹ ورک ان ساؤتھ ایشیا وی پاور فورم کی پہلی علاقائی کانفرنس میں اپنے اپنے مُمالک کی نمائندگی کے لیے جمع ہوئے تاکہ توانائی کے شعبے میں خواتین کے لیے مواقع بڑھائے جا سکیں۔
اس کانفرنس میں طلبہ، جونیئر انجینئرز، نوجوان پروفیشنلز اور اپنے شعبوں کے ماہرین بھی موجود تھے، جو ڈائیورسٹی اینڈ انکلوژن (D & I) پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کے ذمّے دار ہیں۔’’ وی پاور‘‘ کے ساٹھ مختلف شریک اداروں نے آئندہ برسوں کے دَوران اپنی سرگرمیوں، منصوبوں اور اہداف کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔
’’توانائی کے شعبے میں خواتین انجینئرز اور پروفیشنلز کی ترقّی، خدمات حاصل کرنے کے لیے بہترین پالیسیز‘‘ (Best Policies for Developing and Retaining Women Engineers and Professionals in the Energy Sector) کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں عالمی بینک کی نمائندہ اور ریجنل کوآرڈینیٹر برائے ریجنل انٹیگریشنز اینڈ پارٹنرشپس، ساؤتھ ایشیا ریجن، مناکنی کول نے ماڈریٹر کے فرائض انجام دیے،
جب کہ بھوٹان پاور کارپوریشن کی مینیجر ہیومن ریسورسز، کنلے وینگمو اور ٹاٹا پاور دہلی ڈسٹری بیوشن لمٹیڈ میں ہیڈ آف گروپ (پرفارمنس مینجمنٹ، ریسورسنگ اینڈ ریوارڈنگ( ہرلین کورجیسی اہم خواتین مقرّرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سیشن کی نمایاں شخصیت، کے- الیکٹرک کی تمکین سردار فیصل تھیں، جو ادارے میں ڈائیورسٹی اینڈ انکلوژن جیسے اہم امور میں رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔ اُنہوں نے ادارے میں خواتین ملازمین کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اپنائی گئی پالیسیز پر گفتگو کی، جس میں زچگی کے لیے چھے ماہ تک کی رخصت، بچّے کی دیکھ بھال میں معاونت اور زچگی کے بعد صحت کی بحالی پر توجّہ مرکوز رکھنا وغیرہ شامل ہیں تاکہ کام پر واپس آنے میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔کانفرنس میں ’’کیریئر اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن‘‘ جیسے اہم موضوع پر بھی ایک سیشن ہوا، جس میں سینئر مینجمنٹ سے تعلق رکھنے والی، تبسّم کنول نے ادارے کی نمائندگی کی،
جب کہ سری لنکا کی کے ایم مالینی کماری ہامی، ایڈیشنل سیکریٹری برائے وزارت پاور، انرجی اور بزنس ڈیویلپمنٹ، نیپال کی رنجو پانڈے، مینیجر، پاور ٹریڈ ڈیپارٹمنٹ اور توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی دیگر خواتین نے بھی اپنے ملازمت کے سفر کی کہانیاں بیان کیں۔ اس سیشن میں ماڈریٹر کے فرائض عالمی بینک کی سینئر سوشل ڈیویلپمنٹ کنسلٹنٹ، یوکاری شیبویا نے انجام دیے۔ ایونٹ میں شریک نوجوان خواتین انجینئرز نے مقرّرین کے تجربات اور خیالات سے بھرپور استفادہ کیا۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ’’ کے-الیکٹرک‘‘ پاکستان میں توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والا واحد ادارہ ہے، جس نے ویمن امپاورمنٹ کے لیے طویل المیعاد حکمتِ عملی اختیار کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے میں حالیہ برسوں کے دَوران لیڈرشپ پوزیشنز پر خواتین کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ علاوہ ازیں، 2017ء میں انتظامی شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والوں کی تقریباً نصف تعداد خواتین پر مشتمل تھی۔ 2018ء میں ادارے نے پہلی مرتبہ خواتین پر مشتمل میٹر ریڈنگ ٹیم بھرتی کی، اُسے تربیت دی اور کام تفویض کیا، جب کہ اس سے قبل یہ کام صرف مرد ہی انجام دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، اسپورٹس سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کی جارہی ہے، اس ضمن میں گزشتہ برس کمپنی نے’’ پہلی آل ویمن فُٹ بال لیگ‘‘ منعقد کی، جس کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اُس میں صرف کراچی سے150 سے زائد خواتین کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ نیز، پاکستان میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی گرلز باکسنگ چیمپئن شپ بھی اسی ادارے کے کریڈٹ پر ہے، جس میں 20 لڑکیوں کو شرکت اور خود کو منوانے کا موقع ملا۔
توانائی کے شعبے میں خواتین کا کردار بلاشبہ، وی پاور نوعیت کے اجلاس خواتین کی صلاحیتوں میں اضافے اور توانائی کی صنعت میں ان کے پیشہ ورانہ روابط وسیع کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ اس طرح کے اجلاسوں اور کانفرنسز میں خواتین کو فنی قابلیت اور تعلقاتِ عامّہ کے شعبوں میں بھی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ نیز، خواتین کی ترقّی اور خود مختاری کی راہ میں حائل مشکلات، آزمائشوں کو دُور کرنے کے لیے مختلف حل بھی تجویز کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکے۔ دراصل، یہ اجلاس عالمی سطح پر ہونے والی ان کاوشوں کا حصّہ ہیں، جن کا مقصد قائدانہ کردار کی ادائی کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔’’ وی پاور‘‘ کے شرکاء میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے توانائی کی صنعت میں ان کے کردار کو بڑھایا جائے۔ اس حوالے سے جنوبی ایشیائی خطّوں کے لیے اہم اقدامات بھی تجویز کیے گئے، جن کے ذریعے اس اہم صنعتی شعبے میں خواتین کی صورت میں باصلاحیت اور ذمّے دار افرادی قوّت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
کانفرنس میں ملازمت پیشہ خواتین میں مقابلے کی استعداد بڑھانے کے لیے بھی مؤثر حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا۔ علاوہ ازیں، صنعتی شعبے میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی، بھرتیوں، تربیت، ترقّی اور مالی معاونت جیسے مسائل پر بھی کُھل کر بات ہوئی۔
News Source : JANG

YOU MAY ALSO LIKE :