حکومت کی غریب مٹاؤ پالیسی

(Naseem Ul Haq Zahidi, Lahore)

وزیراعظم عمران خان کاغربت مٹاؤ پروگرام یقیناًً ایک احسن اقدام ہے اور اگر یہ پوری دیانتداری کے ساتھ نفاذ العمل ہوا تو کسی حد ملک سے مفلسی اور غریبی کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے پہلا بڑا قدم اٹھا رہے ہیں۔ عوام کا احساس ریاست کی اولین ترجیح ہے۔غربت میں کمی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے اور چین کے تجربات سے استفادہ کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ فلاحی ریاست کا تصور عوام کے احساس کے بغیر نامکمل ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان نے غربت کیخلاف نئی وزارت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غربت ختم کرنا بھی جہاد ہے،نئی وزارت رابطے کا کام کریگی ،ہم ملک سے غربت ختم کرینگے ، ہم پسماندہ اور کمزور لوگوں پر خرچ کرتے ہیں ،80 ارب روپے کا اضافہ کررہے ہیں اور 2021 تک 120 ارب روپے تک بڑھا دیں گے،57 لاکھ خواتین کے سیونگ اکاؤنٹس بنائیں گے، اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے کام کروایا جاتا ہے ،تحفظ پروگرام کے تحت کارروائی کی جائیگی،تحفظ پروگرام کے تحت ہماری حکومت لوگوں کو لیگل ایڈ دیگی، تعلیم کیلئے گرانٹ دیں گے ، 500 ڈیجیٹل حب بنا رہے ہیں،جو مختلف دیہاتوں میں کام کریں گے،دس برسوں میں جمہوریت نے ہم نے بدلہ لیا ہے ، ہمارا قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب ہے ،پرانے قرضوں پر دن کا سود 600 کروڑ روپے دے رہے ہیں۔اگلے 4 سال میں بیت المال10لاکھ بچیوں کی مدد کریگا۔ انہوں نے کہاکہ اینٹوں کے بھٹوں پر بچوں سے کام کروایا جاتا ہے ،تحفظ پروگرام کے تحت کارروائی کی جائیگی انہوں نے کہاکہ ہم دنیا میں سب سے کم ٹیکس دیتے ہیں لیکن خیرات دینے والے ممالک میں ہم سب سے آگے ہیں۔لیکن دوسری جانب پٹرول فی لیٹربارہ روپے اضافہ متوقع ہے اور اس کے ساتھ مٹی کا تیل سمیت دیگر اشیائے خوردو نوش بڑھانے کا بھی ٖفیصلہ کر لیا گیا ہے ۔وزیر خزانہ عمر اسد نے درست فرمایا تھا کہ عوام گھبرائیں نہیں مہنگائی کا طوفان آنے والاہے اور ان کی چیخیں نکل جائے گیں-

کیا یہی ریاست مدینہ ؐجہاں پر پاکستانیوں کو نئے پاکستان کے نام پر اچھے دنوں کا جھانسہ دیا جا رہا ہے ۔عوام کو دال روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں اور ہمارے حکمران کرپشن کرپشن کھیل رہے ہیں۔وزیراعظم کے بلندو بانگ دعووں کا کیا کیجئے کہ جب روپے کی قدر گرتی جا رہی ہے، ڈالر کی اڑان اور اونچی ہوتی جا رہی ہے۔افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان کا غربت مٹاؤ پروگرام عوام کی امیدوں پر پورا اتر سکے گا۔غربت ہمارے لیے آج بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے امیر امیر تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور غریب خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیے گئے ہیں اب تک پاکستان میں بننے والی ہر حکومت نے غربت مٹانے کا دل موہ لینے والا نعرہ لگایا کیونکہ یہ نعرہ ہر حکومت کی ضرورت رہا ہے غریب عوام یہ نعرہ سن کر پر امید ہوجاتے ہیں کہ شاید اب ان کا مقدر بدل جائے اب انہیں بھی غربت کے عفریت سے نجات مل جائے گی وہ بھی اپنی چند روزہ زندگی امن و سکون کے ساتھ گزار سکیں گے لیکن غربت مٹاؤ کا یہ نعرہ ہمیشہ نعرہ ہی رہا عوام بیچارے ہر نام نہاد رہنما کی چکنی چپڑی باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں لیکن آخر میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے جب نعمتوں کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو عوام کی جھولی خالی ہی رہتی ہے انہیں سبز باغ دکھانے والے سب کچھ سمیٹ کر اپنی راہ چل پڑتے ہیں اور یہ ہمیشہ ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ہماری قیادت نے ہمیں ہمیشہ مایوس ہی کیا ہم اس دنیا سر اٹھا کر جینے کے قابل نہیں رہے یہی بے انصافیاں اور ہماری معاشرتی ناہمواریاں ہیں جنہیں ہم نے دور کرنا تھا لیکن ہم یہ سب کچھ نہ کرسکے ۔ سوئی گیس کے بلوں میں ہوشربا اضافہ، بجلی کی قیمت میں بھی فی یونٹ دو روپے بڑھادئیے گئے ہیں کیا ان سے ملک میں آباد اسی فیصد غریب عوام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کیا یہ سب بھی لوگوں کی بھلائی میں کیا جا رہا ہے۔غریب کی قسمت میں تو صرف انتظارہی لکھا ہے کہ کب اس کے وقت میں تبدیلی آئے گی؟

جبکہ ملک میں غربت کی انتہا ہو چکی ہے مفلسی کی ماری بد حال عوام نئے پاکستان میں بھی خود کشی کر رہی ہے انہوں نے تو اس امید پر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا کہ تبدیلی آئے گی اور ان کے حالات بھی سنور جائیں گے مگر کیا ہوا ہر بار کی طرح اس حکومت کو بھی خزانہ خالی ہی ملا اور باقی جو بچا وہ موجودہ حکمران سمیت ان کے نئے پاکستان کے معمار وزراء کی فوج ظفر موج کے بقول پچھلے حکمران لوٹ کر لئے گئے اب وہ تو سزائیں جھیل رہے ہیں ۔لیکن سوال یہ ہے کہ بے چاری عوام کو کونسا ریلیف ملا ؟۔ ان کی تو ساری امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا۔سرکاری ہسپتال جو پہلے ہی غریبوں کے لیے مقتل گاہیں ہیں اب فری سہولیات بھی ختم کردی گئیں ہیں ،ٹیسٹوں کے ریٹس مقرر کردئیے ہیں حتی کہ ایمرجنسی میں فری فرسٹ ایڈ کی سہولیات کو بھی ختم کردیا گیا ہے ۔ادویات سو فیصد سے زیادہ مہنگی کردی گئیں ہیں ،حج پر سبسڈی ختم اور سینماگھروں پر سبسڈی دیکر اسلام ،اسلام کا نام لیکر اسلامی ریاست میں اسلام کا مذاق اڑیا گیا ہے ۔کوئی حاکم وقت سے یہ تو پوچھے کہ مانا کہ حج تو غریب افراد پر فرض نہیں مگر کیا امیر ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ رعایا کی ضروریات کا خیال رکھنے کی بجائے رعایاکا معاشی،اخلاقی ،نفسیاتی قتل عام شروع کردے کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جتنا ریاست مدینہ ؐکی طرز حکومت کی طرح کی فلاحی ریاست کا نام اس موجودہ حکومت نے لیا ہے ۔یہ ریاست مدینہؐکو بدنام کرنے کی سازش محسوس ہوتی ۔مگر حاکم وقت کے خوشامدی وزیر ،مشیر حاکم وقت کی قصیدہ گوئی میں اس قدر مصروف ہیں کہ انکو بے بس لاچار رعایا نظر نہیں ہی آرہی ہے ۔ اگر یہ نیا پاکستان ہے تو برائے مہربانی ہمیں پرانا ہی پاکستان قبول ہے ہم تو اقبال ؒاور قائد اعظم ؒ کا پاکستان چاہتے تھے ہم نے کب کہاں تھا کہ ہم کو نیا پاکستان چاہیے خداراہ ہمیں وہ پاکستان چاہیے جس میں بقول شاعر ۔خدا کرے میرے اک بھی ہم وطن کے لیے۔ حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو -

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 286 Print Article Print
About the Author: Naseem Ul Haq Zahidi

Read More Articles by Naseem Ul Haq Zahidi: 64 Articles with 23990 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: