چین کی غیر یقینی دنیا میں استحکام کی جستجو
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین کی غیر یقینی دنیا میں استحکام کی جستجو تحریر : شاہد افراز خان ،بیجنگ
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگی اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں بڑی طاقتوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ ایسے ماحول میں چین کی سفارت کاری ایک متوازن، کثیرالجہتی اور تعاون پر مبنی نقطہ نظر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ رواں برس موسم بہار میں چینی صدر شی جن پھنگ کی سرگرم اسپرنگ ڈپلومیسی نے نہ صرف بین الاقوامی روابط کو مضبوط کیا بلکہ عالمی سطح پر استحکام، یقین دہانی اور تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
بین الاقوامی روابط کا فروغ اور اسٹریٹجک مکالمہ
عالمی منظرنامے میں تبدیلیوں کے دوران چین نے بڑی طاقتوں کے ساتھ اسٹریٹجک روابط کو مزید گہرا کیا۔ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اعلیٰ سطح رابطوں نے اس بات کو واضح کیا کہ عالمی مسائل کے حل کے لیے مکالمہ اور رابطہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح مختلف ممالک کے سربراہان کے چین کے دوروں نے عالمی برادری میں تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کی۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جئے میونگ ، آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن ، جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس اور اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کے دورے اس امر کا ثبوت ہیں کہ چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا عالمی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔ ان ملاقاتوں میں نہ صرف دوطرفہ تعاون بلکہ عالمی استحکام اور مشترکہ ترقی پر بھی زور دیا گیا۔
ترقی کے مواقع کی شراکت اور کھلے پن کی پالیسی
چین نے اپنی ترقی کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ہانگ چو اور شنگھائی جیسے شہروں کے دوروں کے دوران غیر ملکی رہنماؤں نے چین کی اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی اور صنعتی پیش رفت کا براہِ راست مشاہدہ کیا۔ یہ دورے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین نہ صرف اپنی معیشت کو مستحکم کر رہا ہے بلکہ عالمی شراکت داری کے نئے مواقع بھی فراہم کر رہا ہے۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے ساتھ چین نے واضح کیا ہے کہ وہ اعلیٰ معیار کی ترقی کے ذریعے عالمی معیشت میں مثبت کردار ادا کرے گا۔ اس تناظر میں چین کی پالیسی کھلے پن، سرمایہ کاری کے فروغ اور بین الاقوامی تعاون کو وسعت دینے پر مرکوز ہے، جس سے عالمی سطح پر مشترکہ خوشحالی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
عالمی یکجہتی اور امن کا فروغ
بین الاقوامی تنازعات اور کشیدگی کے ماحول میں چین نے امن اور استحکام کے لیے ایک متوازن نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد خالد بن محمد ال زید النیہان کے ساتھ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش کی گئیں، جن میں خودمختاری، بین الاقوامی قانون، پرامن بقائے باہمی اور ترقی و سلامتی کے توازن پر زور دیا گیا۔
اسی طرح مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت میں اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ دنیا کو تقسیم، تصادم اور زیرو سم گیمز کے بجائے تعاون، مکالمہ اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔ چین نے واضح کیا کہ وہ عالمی امن کا حامی ہے اور اس کی ترقی کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔
مجموعی طور پر صدر شی جن پھنگ کی اسپرنگ ڈپلومیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کو استحکام اور اعتماد کی اشد ضرورت ہے۔ چین نے مکالمے، تعاون اور مشترکہ ترقی کے ذریعے ایک متوازن عالمی نظام کے قیام پر زور دیا ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف چین کے عالمی کردار کو مضبوط بناتی ہے بلکہ ایک ایسے مستقبل کی بنیاد بھی رکھتی ہے جہاں کثیرالجہتی تعاون، امن اور مشترکہ خوشحالی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ |
|