مغرب بوکھلا گیا ہے

الشرق الاوسط کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 30جنوری کو مملکت سعودی عرب کے شہر احساء کے ایک دور دراز دیہات ’’مبرز‘‘ میں نماز جمعہ کے وقت نامعلوم افراد نے دو امریکی افراد پر فائرنگ کی ، جن میں سے ایک معمولی زخمی ہوا، دوسرا محفوظ رہا، ہسپتال میں زخمی کی ٹریٹمنٹ کے بعد جب پولیس حکام نے ان سے یہاں بلاوجہ گھومنے کی وجہ پوچھی ،تو انہوں نے صرف اتنابتایاکہ ہم یہاں احسائی کلچر بچشمِ خود مشاہدہ کرنے آئے تھے، ان کے جو اب سے شرطہ اور موقعے پر موجود میڈیا پرسنز حیران پڑگئے ، کہ سعودی عرب میں خارجیوں کو ویسے بھی ہر ہر شہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پھر آخر بلااجازت ان لوگوں کو کیا پڑی تھی ،کہ امریکی شہری ہوکر جو دنیا بھر میں مغضوب ہیں یہاں کیلئے قدم رنجائی کی۔
فرقہ واریت کے شکارایک اور خلیجی ملک بحرین کے دار الحکومت منامہ کے قریب ’’دروز ‘‘ نامی گاؤں سے بھی پچھلے دنوں 6امریکی جاسوس پکڑے گئے، پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے بھی یہ بتایا کہ وہ یہاں کا کلچر دیکھنا چاہتے تھے، ہمارے یہاں ایک امریکی دہشت گرد ’’ریمنڈدیوث ‘‘بھی لاہور کی سڑکوں میں مٹر گشت کررہے تھے، جب انہیں دونوجوانوں پرشک ہواکہ وہ ان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں ،تو اس نے خود ہی قانون ہاتھ میں لے کر انہیں بے دردی سے شہید کردیا، اسی طرح کراچی ایئرپورٹ پر ایک امریکن پکڑے گئے تھے، جس کے بیگ سے آتشین اسلحہ برآمدہواتھا،عام پولیسی تفتیش کے تناظرمیں میں اگر دیکھا جائے ، تو معلوم ہوتاہے کہ ان واقعات کی کڑیوں میں ذہنی اور فکری ارتباط کی وجہ سے ان حرکتوں کاسرچشمہ ایک ہی معلوم ہوتاہے ، جو احساء سے لے کر لاہور تک میں فرقہ واریت پھیلانے کیلئے زھر اُگل رہاہے ،کچھ رپورٹوں کومدنظر رکھکرمعلوم ہوتاہے کہ اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے ، ہماری بے بسی اور بحیثیت عوام وحکمراں کمزوری نے گویااسے پالاہے ، مشہور مغربی مفکر برنارڈ لوئیس اپنے ایک بیان میں کہتاہے: ’’اسلامی بیداری کی تحریک کو روکنے کیلئے ہمیں مسلمانوں کا ’’دوست ‘‘بن کر ان کے اندر تفرقہ اور اختلافات کو پھیلانے کی کوشش کرنی ہوگی ،انہیں مختلف فرقوں اور دھڑوں میں الگ الگ رکھ کر آپس میں لڑانا ہوگا، تب یہ تحریک رک سکتی ہے ،لوئیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ عرب ممالک اینگلو امریکن مفادات کیلئے شدیدخطرہ بن سکتے ہیں ، اس لئے انہیں کمزور قبائلی حکومتوں میں تقسیم کرناہوگا، ان کاکہناہے کہ اس طرح ان کے مختلف ذخائر کو لوٹنا بھی آسان ہوگااور آئندہ کے لئے ان کاخطرہ بھی ٹل جائے گا،اس بدباطن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرق اوسط کے تمام ممالک میں تفرقہ واختلافات کیلئے ’’زہر ‘‘ کے الگ الگ نسخے تیار کرنے ہوں گے ‘‘۔

صرف شرق اوسط نہیں ہمارا ملک پاکستان بھی امریکن ویورپین تھینک ٹینکوں کی زد میں ہے ، کیونکہ پاکستان مستقبل میں اپنے محل وقوع ،مضبوط نظریاتی افواج،افرادی کثرت وذہانت ،معدنی وسائل او رحق پر مبنی دین کے علم بردار ہونے کی وجہ سے ایک ایسی پوزیشن میں آسکتاہے کہ دنیا کے فیصلے یہاں ہوں ،اقوام کی تقدیریں یہاں بنتی ہوں ، اس لئے یہاں بھی جوکچھ ہورہاہے ،فرقہ واریت ،صوبائیت اورنسل پرستی یہ سب باہر کے اشاروں پر ہورہاہے ، ہمارے یہاں اس کا ایک ہی جواب دیاجاتاہے کہ بالفعل او ر برسر زمین کرگذرنے والے تو ہمارے ہی لوگ ہیں ،ارے بابا،منصوبہ اور پروجیکٹ اسی طرح کاہے ،کہ حکمرانوں کی نالائقیوں نے تو زمین ہموار کردی ہے ،لہذاعوام میں غیظ وغضب ہے ہی، لہذااسے بروکار لایاجائے ،باہر سے ایمنڈ دیوث کی طرح ایک دواتالیق ہی کافی ہیں ،مستقبل فوج کشی کی ضرورت نہیں ہے ۔

نیز پاکستان کے بارے میں وہ ہم سے زیادہ جانتے ہیں کہ یہ ملک خداداد نعمتوں سے مالامال ہے ،اس قوم میں جان ہے ، اسے مقروض رکھو،اسے بے نوررکھو ،اسے بے سکون رکھو،اسے متفرق ومتحارب رکھو،ورنہ یہ ملک اور یہ قوم ہمارے ہاتھ سے نکل جائینگے ،لہذا بوکھلاکر انہوں ہمارے خلاف تانے بانے بُننے شروع کردیئے ،ہمیں باہمی دست وگریباں کردیا، مساجد ومدارس کے جن انسانوں پر فرشتوں کو بھی رشک آتاتھا،انہیں بدنام کردیا، بے وقعت کردیا، میدان کارزار کے نوجوانوں کو دہشت گرد بنادیا، فوج کو مشکوک بنانے کی نامسعودحرکتیں ہورہی ہیں ،قومی زعماء اورسیاتدانوں کو کہیں کا نہیں چھوڑاگیا،ہر طرف سازشوں کے جال بچھ رہے ہیں ، لیکن ہم اتنا بتادینا چاہتے ہیں کہ ان سب چالاکیوں سے مسلمانوں کا بظاہر تو نقصان ہوسکتاہے ، دین اسلام کانہیں ،دین ِبر حق پھیل رہاہے ، پھول رہاہے ، دنیا کے کونے کونے او رگوشے گوشے میں اپنی جگہ بنارہاہے ۔
نورخداہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایانہ جائے گا

گوادر بندگاہ کوفعال ہونے دیں ، جو چین اور براستہ افغانستان روس دونوں ہی کیلئے بین الاقوامی گرم آبی گذرگاہ تک رسائی کا ذریعہ ہوگا، پھر دیکھیں پاکستان کتنی اقتصادی ترقی کرتاہے ، اور روس وچین کے بدولت کتنا محفوظ بنتاہے ، بنیا تو یہ سوچ سوچ کر گھائل ہورہاہے کہ اگر پاکستان ان دوعظیم ملکوں اور تہذیبوں کا گیٹ وے بن جاتاہے ،تو اس کے کشش کے سامنے قطر اور دبی بھی کچھ جاذبیت نہیں رکھیں گے ، اور امریکن یہودی شیطان عنصر بھی اس کو بخوبی سمجھ سکتاہے ، اسی لئے انہوں نے اس کیلئے بہت پڑھت لکھت کررکھی ہے ،امریکی سرپرستی میں ادارہ(RAND Corporation) کی 217صفحات پر مشتمل (Building Moderate Muslim Networks) کے نام سے تیارکردہ پلان پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

مڈل ایسٹ کا موجودہ نقشہ تبدیل کر نے کے لئے عرب ممالک میں جاری فساد بھی انہوں نے کرائے ہے ،عراق ،شام ،لبنان ، فلسطین ،اردن ، یمن اور لیبیا کے بعد ان کا ہدف خلیجی ممالک اور مصر ہیں ،بالخصوص مملکت سعودی عرب ،کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر اسلامی دنیا کو لائق فائق اور ژرف نگاہ قیادت میسر آگئی ،جو اپنی بکھری قوت کو یکجا کرکے استعمال کرنے کا گُر جانتی ہو، تو وہ دن دور نہیں کہ مغرب کی بالادستی کا طلسم چکنا چور ہوجائے گااور مسلم دنیا قیادت وجہاں بانی کی نئی بلندیوں تک بڑی آسانی سے پہنچ جائیگی ،انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ مغرب کے منصف مزاج پڑھے لکھے لوگوں کے دلوں میں اسلام نے اپنا رنگ جمالیاہے ،اس لئے وہاں شیطان صفت لوگوں کو اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی ہوئی نظر آرہی ہے ، کیونکہ مسلمان اس وقت مغرب ومشرق کے تمام ممالک میں اپنے تہذیبی ،تمدنی او رپختہ مذہبی وجود کے ساتھ میدان میں ہیں، یہی وہ متعددوجوہات ہیں جن کی وجہ سے ان میں اسلاموفوبیا(Islamophobia)کی لہردوڑ گئی ہے ۔
Dr shaikh wali khan almuzaffar
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 625591 views نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More