خیبرپختونخوا میں گیس بحران یا سیاسی بیانیہ؟ سی این جی بندش، گھریلو صارفین اور آئینی دلائل کے درمیان اصل سوال
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا میں گیس کا مسئلہ نیا نہیں، مگر ہر سرد موسم یا سپلائی دباو¿ کے ساتھ یہ مسئلہ اچانک “آئینی حق” اور “وفاقی ناانصافی” کے بیانیے میں بدل جاتا ہے۔ اس بار معاملہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے اس خط سے دوبارہ سامنے آیا ہے جو انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کو لکھا ہے، جس میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی بندش ختم کرنے اور سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں دلیل یہ دی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا گیس پیدا کرنے والا بڑا صوبہ ہے، جہاں تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا ہوتی ہے جبکہ مقامی استعمال 120 ایم ایم سی ایف ڈی کے قریب ہے۔ مزید یہ کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو پہلے استعمال کا حق حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ کا مو¿قف یہ بھی ہے کہ سی این جی سیکٹر کو 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درکار ہے جو کھاد کے شعبے کو منتقل کر دی گئی ہے، اور اس بندش سے ٹرانسپورٹ، روزگار اور امن و امان متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ ساری دلیل ایک طرف رکھیں تو بنیادی سوال یہ ہے: کیا مسئلہ واقعی صرف سی این جی کا ہے یا پورا گیس نظام ایک structural بحران کا شکار ہے؟
پشاور اور خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں صورتحال یہ ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی گیس کی باقاعدہ فراہمی نہیں مل رہی۔ رمضان کے بعد کئی علاقوں جیسے دلہ زاک روڈ، ہشتنگری، یوسف آباد، غازی آباد اور ننگ روڈ میں گیس کی فراہمی عملی طور پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ بعض علاقوں میں 24 گھنٹے میں صرف چند منٹ یا آدھا گھنٹہ پریشر آتا ہے، وہ بھی غیر یقینی وقت پر۔ یہ وہ حقیقت ہے جو کسی خط یا پریس ریلیز سے نہیں بدلتی۔
اب سوال یہ ہے کہ جب گھریلو صارف بنیادی سہولت سے محروم ہو، تو سی این جی سیکٹر کو ترجیح دینا کس منطق کے تحت درست ہوگا؟ یہاں ایک واضح تضاد ہے: حکومت صوبائی حق کی بات کر رہی ہے، لیکن اسی صوبے کے شہری بنیادی استعمال کے لیے بھی دربدر ہیں۔ 494 ایم ایم سی ایف ڈی پیداوار اور 120 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کا دعویٰ سننے میں مضبوط لگتا ہے، لیکن یہ پورا حساب کتاب سادہ نہیں۔ گیس “جہاں نکلتی ہے وہاں استعمال ہو” یہ عالمی انرجی ماڈل نہیں ہوتا۔ انفراسٹرکچر، ٹرانسمیشن لاسز، کنٹریکٹس، اور نیشنل گرڈ مینجمنٹ اس کو تقسیم کرتے ہیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی سطح پر ڈیٹا کو صرف اپنے مو¿قف کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ پورا سسٹم کھول کر نہیں بتایا جاتا۔
آئین کا آرٹیکل 158 یہ ضرور کہتا ہے کہ جس صوبے میں گیس پیدا ہو، اس کی ضروریات کو ترجیح دی جائے، لیکن اس کی تشریح اکثر سیاسی ہو جاتی ہے۔یہ آرٹیکل یہ نہیں کہتا کہ صوبہ اپنی مرضی سے پورا ڈسٹری بیوشن کنٹرول کرے، یا کسی ایک سیکٹر کو مستقل بنیاد پر سب سے اوپر رکھے اصل مسئلہ implementation کا ہے، نہ کہ صرف قانونی حوالہ جات کا۔ سی این جی سیکٹر واقعی ٹرانسپورٹ کا اہم حصہ ہے، اور اس کی بندش سے ڈرائیورز، چھوٹے کاروبار اور عام شہری متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن ایک غیر آرام دہ حقیقت یہ بھی ہے:
پاکستان میں سی این جی ہمیشہ “پالیسی وولٹیج ریگولیٹر” رہی ہے، نہ کہ مستقل ترجیحی سیکٹر۔ جب گیس کم ہو تو سب سے پہلے سی این جی ہی بند ہوتی ہے تاکہ پاور اور گھریلو سیکٹر بچ سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف سی این جی کو “آئینی حق” کے طور پر پیش کرنا مکمل تصویر نہیں دیتا۔ یہ کہنا کہ پنجاب میں گیس ہر وقت دستیاب ہے، عوامی سطح پر جذباتی طور پر درست محسوس ہوتا ہے، مگر تکنیکی طور پر یہ مکمل تصویر نہیں۔
حقیقت یہ ہے پنجاب کے بڑے شہری مراکز میں بھی سردیوں میں لوڈ مینجمنٹ ہوتی ہے صنعتی، گھریلو اور پاور سیکٹر میں ترجیحات بدلتی رہتی ہیں فرق زیادہ تر انفراسٹرکچر اور ڈیمانڈ ڈینسٹی کا ہے مسئلہ یہ نہیں کہ کس صوبے کو زیادہ مل رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ “جس کو بھی مل رہا ہے، وہ منصفانہ اور شفاف بنیاد پر مل رہا ہے یا نہیں؟”
سب سے بڑا غائب سوال: عام شہری کہاں ہے؟ یہ پورے بیانیے کا سب سے کمزور اور نظر انداز پہلو ہے۔ نہ صوبائی حکومت کے خط میں گھریلو صارف مرکزی ہے، نہ وفاقی پالیسی میں وہ واضح طور پر ترجیح رکھتا ہے۔ بچے بغیر ناشتے اسکول جا رہے ہیں لوگ مہنگے متبادل ایندھن پر مجبور ہیں بعض علاقوں میں خطرناک “پلاسٹک بیگ گیس اسٹوریج” جیسے غیر محفوظ طریقے استعمال ہو رہے ہیں
یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، یہ پبلک رسک ہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائن جیسے ادارے بار بار یہی دلیل دیتے ہیں کہ سپلائی محدود ہے اور لوڈ مینجمنٹ ناگزیر ہے۔ مگر عوامی سطح پر perception یہ ہے کہ یہ load management نہیں، بلکہ misallocation ہے۔
اگر ادارہ واقعی شفاف ہے تو تین چیزیں واضح ہونی چاہئیں روزانہ کی بنیاد پر کس سیکٹر کو کتنی گیس جا رہی ہے ، لوڈ شیڈنگ کا اصول کیا ہے اور کون سے علاقے مستقل محروم ہیں اور کیوں، یہ ڈیٹا عام شہری کو نہیں دیا جاتا، اور یہی خلا شک کو جنم دیتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ نے خط کیوں لکھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہر سال ایک ہی انداز میں کیوں واپس آتا ہے؟ پیداوار زیادہ ہے،،آئینی حق واضح ہے اور طلب معلوم ہے، تو پھر بحران مستقل کیوں ہے؟ اس کے تین ممکنہ جواب ہیں،، گورننس ناکام ہے انفراسٹرکچر کمزور ہے یا allocation جان بوجھ کر غیر متوازن ہے، حقیقت شاید ان تینوں کا مرکب ہے۔
یہ بحث صرف “سی این جی بحال کرو” یا “وفاق ناانصافی کر رہا ہے” تک محدود نہیں رہ سکتی۔ اصل بحران ایک ایسے نظام کا ہے جو: اعداد و شمار کو سیاسی بیانیے میں بدل دیتا ہے، شہری صارف کو سب سے آخر میں رکھتا ہے اور ہر سال اسی مسئلے کو دوبارہ پیدا کرتا ہے جب تک گھریلو صارف کو مرکز نہیں بنایا جاتا، یہ بحث ہر موسم میں واپس آئے گی، اور ہر بار زیادہ تلخ ہوگی۔
#GasCrisis #KPKGasIssue #CNGShutdown #EnergyPolicyPakistan #Article158 #PublicAccountability #SuiNorthernGas #PakistanEnergyCrisis #KhyberPakhtunkhwa #GovernanceFailure
|