غیر حاضر حضرات، حاضر وضاحتیں اور بجٹ کی گمشدہ اکثریت

خیبر پختونخوا کی سیاست میں آج کل ایک عجیب قسم کا موسم چل رہا ہے۔ یہ وہ موسم ہے جس میں سب لوگ موجود بھی ہوتے ہیں اور غیر حاضر بھی۔ اکثریت بھی ساتھ ہوتی ہے اور ناراض بھی فارورڈ بلاک بھی نہیں بنتا لیکن اس کے خلاف دھمکیاں پہلے سے تیار ہوتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کو وزارت نہ ملنے کا کوئی شکوہ نہیں، بس اتفاقاً پچاس کے قریب لوگ ناراض نکل آتے ہیں۔

حال ہی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اب اجلاس میں کتنے لوگ شریک ہوئے، یہ سوال پوچھنا دراصل پاکستانی سیاست کی توہین ہے کیونکہ اس کے جواب میں جتنے ذرائع ہیں اتنی ہی تعداد سامنے آتی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق 53 ارکان شریک ہوئے۔ دوسرے ذریعے کے مطابق 52 شریک ہوئے تیسرے کے مطابق 55 سے 60 کے درمیان تھے چوتھے کے مطابق 75 ارکان موجود تھے۔

اگر یہی رفتار رہی تو اگلے ہفتے کوئی ذریعہ یہ بھی بتا دے گا کہ اجلاس میں 110 ارکان شریک ہوئے تھے حالانکہ اسمبلی میں کل تعداد ہی اس سے کم ہے سیاست میں سچائی سے زیادہ اہم چیز بیانیہ ہوتی ہے اور بیانیے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہر شخص اپنی گنتی ساتھ لے کر آتا ہے۔ اجلاس کے بعد سب سے دلچسپ بحث یہ شروع ہوئی کہ جو غیر حاضر تھے وہ آخر تھے کہاں؟

کچھ بیرون ملک تھے کچھ بیمار تھے۔ کچھ حج پر تھے۔ کچھ شادیوں میں تھے۔ کچھ گلگت بلتستان میں تھے۔ کچھ پارلیمانی امور میں مصروف تھے۔ اور باقی شاید یہ سوچ رہے تھے کہ جب ہر غیر حاضر شخص کے لیے ایک معقول بہانہ موجود ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسمبلی کے ارکان نہیں بلکہ کسی بڑے خاندان کے رشتہ داروں کی فہرست جاری ہوئی ہو جن میں کوئی عمرے پر گیا ہوا ہے، کوئی شادی میں، کوئی ہسپتال میں اور کوئی ماموں کے گھر۔

اصل مزہ اس وقت آیا جب بتایا گیا کہ فارورڈ بلاک نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ یہ اعلان اتنی بار کیا جا چکا ہے کہ اب عوام کو شک ہونے لگا ہے کہ شاید واقعی کوئی مسئلہ ہےپاکستانی سیاست میں ایک اصول ہے۔ جب دس مرتبہ کہا جائے کہ "کوئی مسئلہ نہیں" تو سمجھ جائیں کہ مسئلہ کافی سنجیدہ ہے۔ جب بیس مرتبہ کہا جائے کہ "کوئی فارورڈ بلاک نہیں" تو لوگ گوگل پر فارورڈ بلاک کا مطلب تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اراکین اسمبلی کا مؤقف بھی بڑا دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ناراض نہیں ہیں۔ ہم صرف بجٹ سے ناراض ہیں۔ ہم حکومت سے ناراض نہیں ہیں۔ ہم صرف سرپلس بجٹ سے ناراض ہیں۔ ہم وزیراعلیٰ کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم صرف اس بات کے خلاف ہیں کہ عوام کا پیسہ سرپلس کیوں بنایا جا رہا ہے یعنی ناراضی بھی ایسی نفیس کہ بندہ ناراض ہو کر بھی ناراض نہ لگے۔

گویا ایک شوہر اپنی بیوی سے کہے: "میں تم سے ناراض نہیں ہوں، صرف تمہاری ہر بات سے اختلاف ہے۔" ادھر بجٹ پر بھی دلچسپ صورتحال ہے۔ اراکین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سرپلس بجٹ نہ دینے کا کہا تھا۔پہلے 150 ارب کا سرپلس آیا۔ اب 253 ارب کا سرپلس زیر بحث ہے۔

اس پر کئی ارکان کو ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے سامنے چائے کا کپ رکھا گیا ہو اور بل پورے ہوٹل کا پکڑا دیا گیا ہو۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ سرپلس جا کہاں رہا ہے؟ عوام پوچھ رہی ہے کہ پہلے یہ بتائیں سرپلس ہوتا کیا ہے؟ اور آئی ایم ایف شاید یہ سوچ رہی ہوگی کہ پاکستان میں ہمارا نام ہر تیسرے جھگڑے میں کیوں آ جاتا ہے۔

ایک اور دلچسپ تجویز سامنے آئی۔ اراکین نے کہا کہ اگر حمایت چاہیے تو بجٹ سے پہلے عمران خان کی بہنوں کی عمران خان سے ملاقات کرا دی جائے۔ یہ شاید دنیا کی پہلی سیاسی تاریخ ہوگی جس میں بجٹ منظوری کا انحصار اقتصادی اشاریوں، ٹیکس اصلاحات یا ترقیاتی منصوبوں پر نہیں بلکہ ملاقات کے انتظامات پر ہو۔

اقتصادی ماہرین اب شاید نئی کتابیں لکھنے پر مجبور ہوں۔ باب اول: مالیاتی پالیسی۔ باب دوم: زرمبادلہ کے ذخائر۔ باب سوم: سیاسی ملاقاتوں کا بجٹ خسارے پر اثر۔

اسی دوران شفیع جان صاحب نے اعلان فرمایا کہ کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔ اور اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو زمین اس پر تنگ کر دی جائے گی۔یہ سن کر زمین بھی پریشان ہوگئی ہوگی۔ اس نے سوچا ہوگا کہ مہنگائی، بے روزگاری، بارشیں اور سیلاب سنبھالنا ہی مشکل تھا، اب سیاسی وفاداریوں کا بوجھ بھی میرے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ دوسری طرف مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اکثریت کھو چکے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اکثریت پوری موجود ہے۔ مخالفین کہتے ہیں اجلاس ناکام تھا۔ حامی کہتے ہیں تاریخی کامیاب تھا۔ مخالفین کہتے ہیں لوگ غائب تھے۔ حامی کہتے ہیں لوگ مصروف تھے۔

ایسی صورتحال میں عوام صرف یہی پوچھ رہی ہے کہ آخر سچ کس کے پاس ہے؟ جواب آیا: "ذرائع کے پاس۔" پاکستان میں ذرائع ایک ایسی مخلوق ہیں جو ہر جگہ موجود ہوتی ہے لیکن کبھی سامنے نہیں آتی۔ وہ اجلاس میں بھی ہوتے ہیں، وزیراعلیٰ ہاؤس میں بھی، اپوزیشن میں بھی، حکومت میں بھی اور بعض اوقات تو لگتا ہے کہ چائے والے کے پاس بھی انہی کے نمبر محفوظ ہوتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں سب سے خوش قسمت شخصیت شوکت یوسفزئی نکلے جنہیں پارٹی ترجمان مقرر کر دیا گیا۔ وجہ بتائی گئی کہ صحافیوں سے تعلق بہت ہے۔ یہ شاید واحد سرکاری تقرری ہے جس میں ڈگری، تجربے اور قابلیت سے زیادہ اہم چیز صحافیوں کے موبائل نمبر نکلے۔ اب صحافی بھی خوش ہیں۔ ترجمان بھی خوش ہیں۔ پارٹی بھی خوش ہے۔اور عوام بدستور یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اجلاس میں آخر شریک کتنے لوگ ہوئے تھے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ خیبر پختونخوا کی سیاست اس وقت شروڈنگر کی بلی جیسی حالت میں ہے۔ فارورڈ بلاک موجود بھی ہے اور نہیں بھی۔ اکثریت حاصل بھی ہے اور نہیں بھی۔ اراکین ناراض بھی ہیں اور نہیں بھی۔ اجلاس کامیاب بھی تھا اور نہیں بھی۔
اور بجٹ منظور بھی ہوگا اور نہیں بھی۔

جب تک اگلا "ذرائع کے مطابق" نہ آ جائے۔ تب تک عوام آرام سے پاپ کارن کھائے، سیاسی بیانات سنے اور انتظار کرے کہ اگلی بریکنگ نیوز میں غیر حاضر ارکان کی تعداد کتنی نکلتی ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں سیاست میں نظریات سے زیادہ گنتی بدلتی رہتی ہے، اور گنتی سے زیادہ وضاحتیں۔ اور وضاحتوں کا حال یہ ہے کہ جتنی زیادہ آتی ہیں، معاملہ اتنا ہی مشکوک لگنے لگتا ہے۔ فی الحال اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اسمبلی سے زیادہ حاضری شاید وضاحتوں کی لگ رہی

#KPKPolitics #BudgetDrama #PoliticalComedy #AssemblyAttendance #PTI #ParliamentaryParty #BreakingNews #PoliticalSatire
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 999 Articles with 775307 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More