قومی اسمبلی سے چند روز قبل منظور شدہ زینب الرٹ بل جاری ہونے کے بعد مجرم کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹیکسلا کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے وڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے والے مجرم کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے، اس کے ساتھ مجرم پر 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
مجرم جعفر بچے کو بدفعلی کے بعد بلیک میل کر رہا تھا،جبکہ اس کے بلیک میلنگ کرنے پر بچے نے خود کی کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔
یہ بات واضح رہے کہ ریپ اور قتل کا نشانہ بننے والی زینب کی لاش ملنے کے ٹھیک دو سال بعد زینب الرٹ ریکوری اینڈ رسپانس ایکٹ گزشتہ سال 2019 میں قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔
منظور کئے جانے والے بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم پر عمر قید، کم سے کم دس سال اور زیادہ سے زیادہ چودہ سال سزا دی جائے گی جبکہ دس لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ پنجاب کے شہر قصور کی رہائشی چھ سالہ زینب انصاری 4 جنوری 2018 کو علاقے سے لاپتہ ہوئی تھی اور نو جنوری کو بچی کی لاش ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی جس کے .بعد ملک بھر میں لوگوں کی طرف سے شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔