اب سے چار ماہ پہلے 20 کلو آٹے کا تھیلا 750 روپے جبکہ چکی کا آٹا 42 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔ لیکن اب آٹے کی قیمت میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث عوام بے حد پریشان ہے۔
کیا گندم کا شمار درآمدی اشیاء میں ہوتا ہے؟ کیا حکومت نے کوئی نیا ٹیکس لگا دیا ہے؟ گندم کی قیمت میں اچانک کیسے اضافہ ہوگیا؟ گندم کی سرکاری قیمت گزشتہ سال بھی 1300 روپے فی من تھی اور رواں سال بھی یہی ریٹ مقرر کیا گیا تھا تو آٹے کے قیمت اچانک کیسے بڑھ گئی ؟ کیا کوئی پوچھنے والا ہے؟ ذرائع کے مطابق آئندہ آنے والے ماہ کے دوران آٹے کی قیمتوں میں نہ صرف مزید اضافہ ہوگا بلکہ گندم اور آٹے کے بحران کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ہر سال تقریباً 1.5 ملین ٹن گندم وفاقی ادارہ ’’پاسکو‘‘خریدتا ہے جبکہ 3 سے 4 ملین ٹن گندم پنجاب کا محکمہ خوراک خریدتا ہے تاکہ مصنوعی ذخیرہ اندوزی یا اسمگلنگ کے ذریعے ملک میں غذائی قلت کی کیفیت پیدا نہ ہو۔
پنجاب حکومت کی جانب سے گزشتہ برس 40 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی گئی تھی جسے 90 فیصد حاصل کر لیا گیا۔ اس سال عمران خان کی حکومت نے گندم خریداری پالیسی کا اعلان تو کیا مگر خریداری کا ہدف مقرر نہیں ہوا۔ محکمہ خوراک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رواں سال 33 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے جبکہ دیگر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ گندم خریداری اس سے کہیں کم ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی سننے میں آیا کہ عالمی بینک سے قرض لینے کے لئے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ سال 2021 تک حکمومتی سطح پر گندم کی خریداری کا سلسلہ روک دیا جائے گا ۔ گندم کی سرکاری سطح پر کم خریداری کے پیش نظر ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران نہ صرف غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ آٹے کے نرخوں میں بھی مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
آگے آنے والے گندم بحران کی شناخت اس لئے کی کیونکہ اس کے آثار واضح دکھائی دے رہے تھے۔ مہنگائی کا یہ طوفان خود بخود نہیں آتا بلکہ اس کے پیچھے چند اعلیٰ شخصیات کی ملی بھگت شامل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر 2018 کے اختتام میں اقتصادی رابطہ کمیٹی سے گندم برآمد کرنے کی اجازت طلب کی گئی اور گندم بیرونِ ملک فروخت کر کے پیسے کمائے گئے۔ گزشتہ برس حکومت پاکستان سے اس بات کا فیصلہ کروایا گیا کہ 4000 ٹن اضافی گندم خیر سگالی کے تحت افغانستان کو تحفے میں دی جائے۔
جب گندم خریدنے کا موقع آیا تو پاسکو اور صوبائی محکموں سے گٹھ جوڑ کر کے گندم کی خریداری کا ہدف مقرر نہیں ہونے دیا گیا۔ جب کسان مجبور ہوا تو ان مافیاز نے سستے داموں گندم خرید کر اسٹاک کرلی۔ گندم کی فراہمی روک دی گئی اور اب جب مصنوعی بحران کے نتیجے میں آٹے کی قیمت 40 روپے فی کلو سے 70 روپے فی کلو ہو چکی ہے تو نہ صرف سستا اناج مہنگے داموں فروخت کر کے پیسے کھرے کئےجا رہے ہیں بلکہ ایک مرتبہ پھر اقتصادی رابطہ کمیٹی سے ٹیکس فری گندم درآمد کرنے کی اجازت لے لی گئی ہے۔
اب یہ بحران کا عذاب تب تک قائم رہے گا جب تک نئی فصل تیار نہیں ہوتی اور نئے پاکستان کی تعمیر پر سرمایہ کار رقوم بھاری سود کے ساتھ وصول نہیں کر لیتے۔