کرناٹکہ میں ہونے والے واقعات جہاں دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہے ہیں وہیں ایسے واقعات بھارت کے مکروہ چہرے کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
کرناٹکہ کے کالج میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے کالج میں اسکارف پہننے رپر طالبات اور مسلم ٹیچرز کو ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں بھارتی جمہوریت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آیا تھا۔
لیکن اب خبر سامنے آئی ہے کرناٹک ہائیکورٹ نے عبوری حکم نامے میں طالبات کو حجاب پہن کر اسکول آنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
کرناٹک ہائیکورٹ میں ریاستی تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تھی، طالبات کے وکیل کا کہنا تھا کہ امن و امان کا بہانہ بنا کر کوئی بھی کالج انتظامیہ طالبات کو حجاب سے نہیں روک سکتی، اسکارت اور حجاب پہننے والی مسلمان لڑکیاں کسی کے لیے خطرہ نہیں۔
وکیل کا مزید دلائل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مذہبی آزادی صرف اس وقت روکی جا سکتی ہے جب امن و امان کا خطرہ ہو، بھارتی آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے۔
کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
واضح رہے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جہاں امتحانی مراکز میں طالبات کو محض حجاب کرنے پر اسکول میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
جبکہ ایک اور ویڈیو میں ہندو انتہا پسند کلاس روم کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور مسلمان طالبات کو ہراساں کیا۔