اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیرِاہتمام قومی مکالمہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے طریقۂ کار اور سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، شیر افضل مروت، بیرسٹر سیف، عمران اسماعیل اور شہزاد وسیم نے شرکت کی۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی گئی جو سیاسی قیدیوں کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ اسی طرح صدرِ مملکت آصف علی زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشاورت سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔
اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تقرری کی جائے، سیاسی کارکنوں کی رہائی عمل میں لائی جائے تاکہ حکومت پر اعتماد بحال ہو، میڈیا سنسرشپ ختم کی جائے اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات واپس لیے جائیں۔
اجلاس میں قومی مکالمے کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔