ایک حافظ قرآن کی عزت جتنی دنیا میں کی جاتی ہے روز مہشر میں اس کا مقام کئی زیادہ بلند ہوگا۔ اکثر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بیٹا/ بیٹی قرآن کی تعلیم حاصل کریں اور جب وہ اللہ کی کتاب کو حفظ کرلیتے ہیں تو وہ لمحہ ان کے لیے بہت انمول ہوتا ہے۔
لیکن آج ہم جس حافظ قرآن کی درد بھری کہانی بیان کرنے جا رہے ہیں اس کی والدہ کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا بڑا ہوکر حافظ قرآن بنے۔
بیٹے نے ماں کی خواہش کو پورا کیا لیکن جب ماں نے دیکھنا تھا کہ اس کا بیٹا اب ایک حافظ بن چکا ہے تب وہ دنیا سے جا چکی تھیں۔
حافظ قرآن کے مطابق جب وہ 4 برس کا تھا تب اس کی والدہ کا انتقال ہوگیا تھا۔
طالب علم جب بھی تلاوتِ قرآن کرتا ہے تو اُسے اپنی والدہ یاد آجاتی ہیں اور اس دوران آنکھوں میں آنسو لیئے وہ اپنی ماں کو یاد کرتا ہے اور تلاوت کرتا ہے۔ حافظ قرآن نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب وہ پیدا ہوا تھا تو اس کی والدہ اسے حافظ کہہ کر پکارتی تھیں۔
ماں چاہتی تھی کہ اس کا لخت جگر بڑے ہوکر عالم بنے جس کی تلاوت اور آواز لوگوں کے دلوں کو چھولے مگر بلڈ کینسر کی وجہ سے وہ جانبر نہ رہ سکیں۔
حافظ قرآن کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرا اللہ مجھ سے اور میری والدہ سے خوش ہو۔ بیٹے کا کہنا تھا کہ میری ماں اگر زندہ ہوتی تو میں انہیں قرآن پڑھ کر سناتا اور وہ بہت خوش ہوتیں۔