لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے پر پی ٹی آئی کی جانب سے دائر توہین عدالت کے کیس میں الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہ کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت پی ٹی آئی کی درخواست جرمانہ عائد کرتے ہوئے مسترد کرے۔
آئندہ انتخابات کیلئے 47 ارب 41 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے،الیکشن کمیشن
جواب میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات کرکے بلاتفریق لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنےکی یقین دہانی کروائی گئی، اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے چاروں صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات بھی جاری کیں۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ 26 دسمبر تک تحریک انصاف کی جانب سے ملک بھر میں 33 شکایات درج کروائی گئیں، پی ٹی آئی کی شکایات پر اقدامات اور ہدایات کی تفصیلات بھی سپریم کورٹ کو فراہم کر دی گئیں، پی ٹی آئی کی شکایات پر آئی جی، چیف سیکرٹری اور آر اوز نے عملدرآمد رپورٹس بھی جمع کروائیں۔
سندھ ہائیکورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے پی ٹی آئی کی 4 اپیلوں پر فیصلہ سنادیا
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ لیول پلیئنگ فراہم نہ کرنے کے الزامات کو آر اوز کی رپورٹ کے تناظر میں مسترد کرتے ہیں، تحریک انصاف کے 76.18 فیصد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے لہذا تحریک انصاف کے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہ کرنے کے الزامات درست نہیں۔