خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور میں جاری ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت ضلعی ترقیاتی اقدامات کے تحت دوسری قسط جاری کردی ہے۔
محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے کے مطابق پشاور میں مختلف جاری سب اسکیموں کی واجب الادا ادائیگیوں کے لیے مجموعی طور پر 45 کروڑ 77 لاکھ 35 ہزار روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں تاکہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل کیے جاسکیں اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔
دستاویزات کے مطابق یہ فنڈز پشاور کے شہری اور دیہی علاقوں، ٹاؤنز اور یونین کونسلز میں جاری مختلف نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ ان منصوبوں میں سڑکوں اور گلیوں کی پختگی، نالیوں اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری، حفاظتی دیواروں اور پلیاؤں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کی لائنوں کی مرمت و بحالی، ٹرانسفارمرز کی تنصیب و مرمت سمیت دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کے کام شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق صفائی اور نکاسی آب کے شعبے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس کے تحت یونین کونسل ارمڑ، چمکنی، ناصر پور، بڈھئی، پشتخرہ، حیات آباد اور دیگر علاقوں میں ڈرینج لائنز کی تعمیر اور پرانے نظام کی بحالی کے منصوبے شامل ہیں۔ اسی طرح کمیونٹی سطح پر جنازہ گاہوں کی تعمیر و مرمت، کمیونٹی سینٹرز کی بحالی، مساجد کی سولرائزیشن اور اصحابِ بابا مزار کی تزئین و آرائش جیسے منصوبے بھی اس پیکیج کا حصہ ہیں۔
سماجی بہبود کے منصوبوں کے تحت یونین کونسل ہزار خوانی اور ملحقہ علاقوں میں خصوصی افراد کے لیے وہیل چیئرز اور ٹرائی سائیکلوں کی فراہمی کو بھی شامل کیا گیا ہے، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے ڈپٹی کمشنر پشاور کو ہدایت کی ہے کہ جاری کیے گئے تمام فنڈز صرف اور صرف منظور شدہ پی سی ون کے مطابق خرچ کیے جائیں اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سے گریز کیا جائے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ 30 جون 2026 تک تمام ٹھیکیداروں اور متعلقہ اداروں کی واجبات کی ادائیگی مکمل کی جائے، بصورت دیگر استعمال نہ ہونے والی رقم اگلے مالی سال میں دوبارہ فراہم نہیں کی جائے گی اور اس کی ذمہ داری متعلقہ ایگزیکیوٹنگ ایجنسی پر عائد ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ فنڈز کے استعمال، ریکارڈ اور اکاؤنٹس کو مکمل شفافیت کے ساتھ برقرار رکھنے کی بھی سخت ہدایت جاری کی گئی ہے۔