اسلام آباد کے پمز اسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ سنگین غفلت کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں مریضہ کے پھیپھڑوں کے بجائے جگر کی بائیوپسی کردی گئی، جس کے نتیجے میں مریضہ جانبر نہ ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے علاقے ڈڈیال سے تعلق رکھنے والی مریضہ عابدہ پروین کو 9 دسمبر کو پمز اسپتال کے پلمونولوجی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کیا گیا تھا۔ مریضہ پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھی، جس پر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر محمد اسرار نے لنگز بائیوپسی کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 16 دسمبر کو پمز اسپتال میں مبینہ طور پر لنگز بائیوپسی کی گئی، تاہم بائیوپسی کے چند ہی گھنٹوں بعد مریضہ اسپتال میں جاں بحق ہوگئی۔
بعدازاں نجی لیبارٹری شوکت خانم لیب سے موصول ہونے والی بائیوپسی رپورٹ میں حیران کن انکشاف سامنے آیا، جس میں بتایا گیا کہ ڈاکٹروں نے پھیپھڑوں کے بجائے مریضہ کے جگر کا ٹشو نکال لیا تھا۔
بائیوپسی رپورٹ سامنے آنے پر مریضہ کے لواحقین نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی میں باضابطہ درخواست دائر کردی ہے۔ درخواست میں ایچ او ڈی پلمونولوجی ڈاکٹر محمد اسرار، ڈاکٹر ہارون اشرف خان سمیت پروسیجر روم میں موجود دیگر ڈاکٹروں اور عملے کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
لواحقین نے اپنی درخواست کے ساتھ پمز اسپتال سے جاری شدہ سلپس اور لیبارٹری رپورٹس بھی جمع کروا دی ہیں۔
اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی حکام کے مطابق درخواست موصول ہوتے ہی معاملے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب مریضہ کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار پمز اسپتال رجسٹرار آفس کال کی گئی تاہم رابطہ نہ ہوسکا، درخواست میں نامزد پمز اسپتال کے ڈاکٹرز اس حوالے سے جب اپنا موقف دینا چاہیں تو یہ پلیٹ فارم دستیاب ہے۔