آسٹریلیا نے آج انگلینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایشیز سیریز کا پانچواں اور آخری ٹیسٹ بھی جیت لیا۔ اور اس طرح سے سیریز چار ایک سے اپنے نام کرلی۔
انگلینڈ کے کپتان بین سٹوکس نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم اب قابل پیش گوئی ہوگئی ہے اور کھلاڑیوں کو اپنا کھیلنے کا انداز اور ذہنیت بدلنی پڑے گی۔ انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کو باور کیا کہ انہوں نے ابھی تک ان کا دوسرا رخ نہیں دیکھا کیونکہ وہ انگلینڈ کی ساکھ کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
سڈنی کے اس ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے عثمان خواجہ نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا اور اپنی آخری اننگز میں صرف چھ رنز بنا پائے۔ انگلینڈ کے فاسٹ بالر جارج ٹنگ نے جارحانہ بالنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کے ایلکس کیری 16 اور کیمرا ان گرین 22 کو ڈٹ کر آخر میں مقابلہ کرنا پڑا اور اپنی ٹیم کو کامیاب کرایا۔
ٹریلر کی طرف سے مارنس لب وشن 37 اور ٹریوس ہیڈ ہے 29 سے نمایاں اسکورر رہے۔ نے 161 رنز کا دفاع بہت تگڑے انداز میں کیا لیکن ان کے کپتان انجری کی وجہ سے بالنگ نہیں کر پائے جس سے آسٹریلیا کو فائدہ ہوا۔
انگلینڈ کی دوسری اننگز میں جو 342 رنز پر آج اختتام پذیر ہوئی نوجوان بیٹسمین جیکب بیتل نے شاندار 154 رنز کیے اور جب تک وہ کریز پر تھے تو لگ رہا تھا کہ انگلینڈ آسٹریلیا کو ٹیسٹ کے آخری دن مشکل ٹارگٹ دے سکتا ہے۔ انگلینڈ 2013 سے اپنے آخری چار ایشیز سیریز بڑے مارجن سے ہارا ہے۔ انگلینڈ کو آج ایک اسپیشل اسپنر نا کھلانے کی پشمانی ہوگی کیونکہ گیند آج آخری دن کافی ٹرن ہو رہا تھا۔