آپریشن کے دوران بچے کو بلا لیا ۔۔ جانیے ان مشہور شخصیات کے آخری الفاظ کے بارے میں، جس نے سب کو رلا دیا

image

مشہور شخصیات ہمیشہ ہی سے سب کے چہیتے ہوتے ہیں، ان مشہور شخصیات کو مداح ہمیشہ ہی سے پسند کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مداح اپنے پسندیدہ شخصیت کی ہر بات کو احساسات کا ایک بہتا ہوا سمندر سمجھتے ہیں۔ ہماری ویب کی اس خبر میں آپ کو ان مشہور شخصیات کے آخری الفاظ کے بارے میں بتائیں گے جن میں ایک درد تھا، ایک تڑپ تھی، ایک احساس تھا، اگرچہ یہ الفاظ وفات کے وقت کے نہیں ہیں بلکہ یہ الفاظ اس طرح ان کے آخری الفاظ تھے، جو انہوں نے اپنے چاہنے والوں کے لیے بولے تھے یا چاہنے والے ان کے ان الفاظ کو سن کر افسردہ ہو گئے تھے۔

عمر شریف:

مشہور کامیڈین عمر شریف کے آخری وقت اور لمحات اس قدر افسردہ کر دینے والے تھے کہ مداح انہیں دیکھ کر دعا کرتے اور افسردہ ہو جاتے تھے۔ کامیڈی کے بادشاہ نے مداحوں کو ایک ایسی کامیڈی فراہم کی تھی جس میں بے ہودگی اور غیر اخلاقی حرکتوں کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا تھا۔ عمر شریف نے آخری لمحات میں صرف ایک ہی خواہش کا اظہار کیا تھا اہلیہ زرین اس وقت عمر سے بات کر رہی تھیں اور وہ ویڈیو بنا رہی تھیں تب ہی عمر نے اہلیہ زرین کو مخاطب کرتے ہوئے مریم سے ملنے کی فرمائش کا اظہار کیا تھا۔ عمر شریف کا کہنا تھا کہ مجھے مریم سے بات کرنی ہے، اسے بلا دو۔

عبد القدیر خان:

مشہور پاکستانی سائسندان اور محسن پاکستان عبدالقدیر خان نے اگرچہ ملک کی خاطر ہر قسم کی مشکل کو جھیلا پابند سلاسل سے لے کر امریکی دباؤ کو بھی برداشت کیا مگر ملک کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے۔ لیکن عبدالقدیر خان کے چاہنے والے اور پورا پاکستان اس وقت افسردہ ہو گیا جب محسن پاکستان نے وزیر اعلٰی سندھ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے وزیر اعلٰی سندھ کا بیماری کی اس گھڑی میں یاد کرنے پر شکریہ ادا کیا جبکہ ساتھ ہی ساتھ وفاق، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب سے خیریت دریافت نہ کرنے پر شکوہ بھی کیا۔ محسن پاکستان نے کہا کہ شکریہ میرے صوبے کے وزیر اعلٰی، آپ نے مشکل کی اس گھڑی میں مجھے یاد رکھا۔

امجد صابری:

مشہور پاکستانی قوال اور صابری گھرانے کے چشم و چراغ امجد صابری اگرچہ دنیا سے چلے گئے مگر ان کے مداح آج بھی انہیں قوالی کی دنیا کا ایک شہنشاہ ہی تصور کرتے ہیں۔ امجد صابری کو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیا گیا تھا۔ رمضان کے دنوں میں امجد صبح صحری کی ٹرانسمیشن کے بعد افطار کی ٹرانسمیشن کے لیے مایہ خان کے اسٹوڈیو جا رہے تھے کہ اچانک انہیں سفاک دہشت گردوں نے شہید کر دیا تھا، دہشت گردوں کو امجد کے وہ دردناک الفاظ بھی نرم نہ کر سکے، انہوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کا واسطہ دیا تھا۔ امجد صابری نے شہادت سے کچھ لمحہ پہلے دہشت گردوں سے کہا کہ تم مجھے کیوں مارنا چاہتے ہو؟ میری فیملی ہے اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔

دردانہ بٹ:

مشہور پاکستانی ڈرامہ اداکارہ دردانہ بٹ بھی اسی سال جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔ دردانہ بٹ ایک ایسی اداکارہ تھیں جنہیں صوفی اور صوفیانہ مزاج سے بے حد لگاؤ تھا، یہی وجہ تھی کہ اپنے گفتگو کی شروعات میں بسم اللہ پڑھتی تھیں اور آقائے دو جہاں کو یاد کیا کرتی تھیں۔ اداکارہ نے اگرچہ اس انٹرویو کے بعد بھی کئی انٹرویو دیے تھے، ان کی وفات سے پر جن آخری الفاظ نے مداحوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا وہ یہ تھے۔ میں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود کو بھی نقصان پہنچاتی تھی، ہم جو کہہ دیتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو، یہ رسی آرام سے نہیں آتی۔ اس رسی کے لیے بہت محنت، لگن ضروری ہے۔ ہم اپنے بچوں کو قران ختم کرنے پر خوش ہوتے ہیں، جی نہیں قرآن ختم نہیں ہوتا بلکہ اپنے بچوں کو ترجمہ کے ساتھ اسے سکھائیں۔ قرآن شریف کے ایک لفظ پر اگر روز سوچوں کہ یہ کیا ہے تو اس کے ایک لفظ کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ زندگی سے متعلق دردانہ کہتی تھیں کہ زندگی ایک تکلیف دہ سفر ہے، اور اس تکلیف کو برداشت کرنا سیکھیں۔ میری تکلیف کا مرحم میرا مرشد ہے، صحیح مرشد ملنا خوش قسمتی ہے۔ اللہ کا کرم اسی وقت ہوتا ہے جب بندہ خود اللہ کی طرف آںے کے لیے جدوجہد کرے۔ میں بہت طاقتور ہوں مگر میں حساس بھی ہوں۔ لیکن میرے آپریشن نے مجھے رُلا دیا تھا، میں بہت روئی تھی۔ ہم جب بھی گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں وہ ایمان کی کمزوری سے ہوتی ہے۔ دردانہ بٹ موت سے متعل کہتی تھیں کہ ہم موت کے آںے کو یاد نہیں کرتے، سب سے بڑا ڈر یہی ہے کہ موت نے آنا ہے۔ مگر ہم مانتے نہیں ہیں۔


WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.