مجھ میں کیا برائیاں ہیں جو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا ۔۔ نادیہ خان اپنے پہلے شوہر اور فیصل کا موازنہ کرتے ہوئے

image

نادیہ خان اپنے شوہر فیصل کی اکثر تعریفیں کرتی نظر آتی ہیں اور یقیناً یہ ایک اچھی عادت ہے اور ان عورتوں کے لئے بھی سبق ہے جو شوہر کی ہزار اچھائیوں کو چھپا کر صرف برائیوں کو عیاں کرنے پر زور دیتی ہیں۔ کوئی بھی رشتہ اس وقت تک مضبوط نہیں ہوتا جب تک ایک دوسرے کی عزت کو خاص نہ سمجھا جائے۔

نادیہ حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں اپنے شوہر فیصل کے ہمراہ نظر آئیں، جہاں انہوں نے ان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ: فیصل میرا بہت خیال رکھتے ہیں، جب میں بیمار پڑتی ہوں تو یہ بہت زیادہ خیال کرتے ہیں، بچوں کو بھی دیکھتے ہیں، سارا گھر سنبھالتے ہیں، ان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ ان باتوں پر غور کرتے ہیں جو شاید مجھ میں کسی نے نوٹس ہی نہیں کیں۔ ان کو میرے کپڑوں، جوتوں یا دیگر چیزوں سے کوئی خاص لگاؤ نہیں، مگر جو چیزیں اچھی لگتی ہیں یہ ان کی تعریف ضرور کرتے ہیں، مجھے ہر بات میں مشورے دیتے ہیں۔ ان کی سب سے زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ یہ میرے کردار، میرے رویے اور اچھائی برائی کو ظاہر کرکے مجھے آئینہ دکھاتے ہیں۔ انہوں نے مجھ میں وہ تمام اچھائیں ڈھونڈیں جو آج سے پہلے کوئی سمجھ ہی نہ سکا۔

نادیہ نے مزید کہا کہ: میں پہلے سمجھتی تھی کہ مجھ میں ہی تمام برائیاں ہیں، میں ہی شاید کسی تعلق کو چلا نہیں پا رہی یا مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں کہ سب کچھ ٹھیک سے چلے، مگر فیصل نے مجھ میں سے میری اچھائیوں کو اس طرح واضح کرکے دکھایا کہ اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ کیا واقعی میں اتنی اچھی ہوں اور یہ ان کی سب سے اچھی بات ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو یونہی سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے، یہی ایک مضبوط رشتے کی بنیاد ہوتی ہے۔

اس انٹرویو میں نادیہ نے بظاہر اپنے سابقہ شوہر کا نام نہیں لیا، مگر جس طرح انہوں نے اپنے رویے، اچھائیوں اور فیصل کی باتوں کو واضح کیا، اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نادیہ اپنے سابقہ شوہر کی بات کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جب یہ انٹرویو سامنے آیا تو ہر کوئی نادیہ کو اس بات پر بڑھاوا دے رہا ہے کہ کیسے انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ خوبصورت رشتہ رکھا ہوا ہے۔ نادیہ کے مداح ان کو خوش رہنے کی دعائیں بھی دے رہے ہیں۔


مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.