زہر کھانے کے بھی پیسے نہیں ۔۔ بچوں کی فیس نہیں دی اور ۔۔ مہنگائی کے ماروں کے پسندیدہ جملے اور اصلی ذمہ دار؟

image

ہم گھر پر ہوں یا دفتر میں زہرکھانے کے بھی پیسے نہیں ہیں، بچوں کے اسکول کی فیس نہیں دی، سبزی والا ادھار سبزی نہیں دے رہا، موٹرسائیکل کی قسط نہیں دی، قسطوں والا سامان واپس مانگ رہا ہے، یہ اور ایسے کئی جملے مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس طبقے میں روز سننے کو ملتے ہیں۔

ہر طرف مہنگائی کا رونا ہے، 25 ہزار کمانے والا بھی مہنگائی کا رونا رو رہا ہے اور لاکھ روپے کمانے والے کے اخراجات بھی پورے نہیں ہورہے۔

مہنگائی مہنگائی کا رونا رونے والوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہم خود اپنے معاشی مسائل کے کتنے ذمہ دار ہیں۔ صرف حکومت پر الزام لگا کر ہم بھی بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔ آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ اور ہم آخر کیسے مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خود ذمہ دار ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ دنیا کے رئیس ترین افراد کا رہن سہن کیسا ہے، اگر ہم صرف دو لوگوں کی بات کریں تو یہ دونوں اس وقت بے پناہ دولت کے مالک ہیں لیکن حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان کا لائف اسٹائل ہمارے ایک عام آدمی سے بھی زیادہ سادہ ہے۔

ہم بات کررہے ہیں بل گیٹس اور مارک زکربرگ کی۔ بل گیٹس مائیکرو سافٹ کا بانی ہے اور مارک زکربرگ فیس بک اور واٹس اپ کا مالک ہے۔ دونوں کے پاس پاکستان کے مجموعی قرضوں سے بھی زیادہ پیسے ہیں۔

اگر پاکستان میں کسی کے پاس اتنی رقم ہوتی تو وہ جزیرے خرید کر عیاشی کی زندگی گزارتا، سونے میں لدا ہوتا اور گاڑیوں کی لائنیں ہوتیں لیکن یہاں آپ کو حیرت کی بات بتاتے ہیں کہ یہ دونوں بے پناہ دولت کے باوجود انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔

بل گیٹس 100 ارب ڈالر سے زیادہ پیسہ ہونے کے باوجود لباس سادہ لباس پہننا پسند کرتے ہیں تاکہ وقت اور سرمایہ بچ سکے اور 40 ارب ڈالر سے زیادہ کے مالک مارک زکر برگ اس سے بھی زیادہ سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ مارک روز ایک جیسے کپڑے پہنتے ہیں تاکہ انتخاب کیلئے وقت ضائع نہ ہو اور یہ دونوں شخصیات اپنی دولت کا بڑا حصہ انسانی فلاح کیلئے خرچ کرتے ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی ایک تلخ حقیقت ہے لیکن اگر آپ کو یاد ہو کہ پی ٹی آئی حکومت میں وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے تھے کہ مہنگائی نہیں ہے تو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے لیکن ان کا کہنا درست تھا وہ کیسے ۔۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

ہم مہنگائی کو اکثر ماضی سے جوڑتے ہیں مثال کے طور پر 70ء کی دہائی میں آٹا 2 روپے کلو تھا آج 100 روپے کلو ہے تو اگر صرف آٹے کی ہی بات کریں تو 70ء کی دہائی میں تنخواہ بھی 500 روپے ماہانہ تھی اور آج کم سے کم تنخواہ 25 ہزار ہے۔

پاکستان میں 1970 میں مزدور کو یومیہ ڈھائی روپے دیہاڑی ملتی تھی اور آج مستری یا مزدور بھی ایک دن کا 15 سو یا 2ہزار سے کم نہیں لیتے اور جہاں تک بات ملازمت پیشہ لوگوں کی ہے تو یہاں 25 ہزار سے 80 ہزار تک تنخواہ عام سی بات ہوچکی ہے۔

اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ جب تنخواہ اتنی زیادہ ہے تو پھر مہنگائی کا رونا کیوں تو اس کی وجہ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ہم خود کیسے اپنے مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ ہم نے آپ کو بتایا کہ دنیا کے رئیس ترین لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں لیکن اگر ہم اپنے طرز زندگی کو دیکھیں تو ہم بل گیٹس اور مارک زکربرگ سے بھی زیادہ شاہانہ ٹھاٹھ سے رہتے ہیں۔

ایک غریب اور متوسط طبقے کے خاندان کو بھی صبح ناشتے میں انڈے اور ڈبل روٹی چاہیے اور یہی نہیں بلکہ ناشتے میں ہی فرمائشوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جبکہ گھر میں سالن اور روٹی سے بھی ناشتہ کیا جاسکتا ہے۔

کھانے میں مرغی اور گوشت لازمی ہے اور یہ دونوں چیزیں صرف نقصان پہنچاتی ہیں کوئی فائدہ نہیں۔ہفتے میں چار سے 5 بار کھانا باہر سے آئیگا۔ خاتون خانہ کاکھانا بنانے کا دل نہ کیا تو آن لائن منگوالیں گے۔

اگر پڑوسن نے نیا سوٹ لیا ہے تو ہمیں بھی اس سے اچھا سوٹ لینا ہے لیکن یہ نہیں سوچنا کہ پڑوسن کا میاں رشوت کے پیسے سے سوٹ لایا ہے ،بس اپنے میاں کی قلیل آمدن میں مقابلہ بھی کرنا ہے جس کیلئے قرض بھی اٹھانے کو تیار ہیں۔

نوجوانوں کو مہنگے جوتے، ٹوپی، گھڑی، ہاتھوں میں پہننے کیلئے بریسلٹ اور خرچے کیلئے روز پیسے چاہئیں لیکن یہ پیسے آئیں گے کہاں سے کوئی پتا نہیں اور جب خرچے پورے نہیں ہوتے تو مجبوراً قرض لینا پڑتا ہے جو کبھی آپ کی جان نہیں چھوڑتا۔

اگر ہم اپنی تنخواہ کے حساب سے بجٹ بنائیں اور لوگوں کو دکھانے اور جلانے کیلئے قرضے اٹھانے کے بجائے آمدن کے اندر رہ کر خرچ کریں تو نہ آپ کو مہنگائی محسوس ہوگی نہ قرض کی ضرورت پڑے گی۔

اپنی معاشی بدحالی اور قرضے کے ہم خود بھی ذمہ دار ہیں اس لئے تھوڑا نہیں پورا سوچئے۔ ورنہ جب تک آپ کی آمدنی اٹھنی اور خرچا روپیہ رہے گا آپ ہمیشہ مہنگائی اور مسائل کا رونا ہی روتے رہیں گے۔


مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.