نیویارک: اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں خواتین کے لیے ان کے گھر کو ہی سب سے خطرناک جگہ قرار دے دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں 85 ہزار خواتین کو مردوں نے دانستہ طور پر قتل کیا۔ جن میں سے 60 فیصد خواتین اپنے ساتھی یا خاندان کے کسی فرد کے ہاتھوں ماری گئیں۔
انکشاف کیا گیا کہ دنیا بھر میں روزانہ تقریبا 140 خواتین اور لڑکیاں اپنے شریک حیات یا خاندان کے کسی فرد کے ہاتھوں ہلاک ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خواتین (یو این ویمن) کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نجی اور گھریلو زندگی میں جہاں خواتین کو سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے۔ وہیں وہ جان لیوا تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اِس رپورٹ کے اعداد و شمار تو صرف ایک جھلک ہیں۔ کیونکہ تمام خواتین کی ہلاکتوں کو ریکارڈ نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: رشوت اور منصب کا ناجائز استعمال ، سعودی عرب میں 164 سرکاری ملازمین گرفتار
یو این ویمن کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ تمام اموات کو درست طور پر قتلِ نسواں کے طور پر درج بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اور پھر کئی ایسے علاقے ہیں جہاں ہمیں معلومات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی 107 ممالک کے دستیاب اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ خواتین پر تشدد کے خلاف 25ویں عالمی دن پر یو این ویمن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کی گئی تھی۔